LIVE
Loading Breaking News...

آئی فون اور یو ایس بی-سی چارجنگ کا مستقبل: کیا ایپل پورٹ ختم کر دے گا؟

News Image
یورپی یونین کے مشترکہ چارجنگ قوانین ایپل کے لیے اپنی مصنوعات میں تبدیلی لانے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایپل آنے والے وقتوں میں پورٹ لیس چارجنگ کی جانب منتقل ہو سکتا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس وقت سب سے بڑی بحث یہ ہے کہ کیا ایپل آنے والے وقتوں میں اپنے مشہور زمانہ اسمارٹ فون 'آئی فون' سے یو ایس بی-سی (USB-C) چارجنگ پورٹ کو مکمل طور پر ختم کر دے گا؟ اس سوال نے جہاں ایپل کے مداحوں کو تجسس میں مبتلا کر رکھا ہے، وہیں صنعت کے ماہرین بھی اس حوالے سے مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ فی الحال، ایپل کو اس معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ یورپی یونین (EU) کے سخت ضوابط کا سامنا ہے۔ یورپی کمیشن نے حال ہی میں ایک ایسے پینل کو تعینات کیا ہے جو الیکٹرانک آلات کے لیے مشترکہ چارجنگ کے معیار کو یقینی بنانے پر کام کر رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ ایپل نے یو ایس بی-سی کو قبول کر لیا ہے، لیکن کمپنی کا اصل ہدف مکمل طور پر وائرلیس ٹیکنالوجی (Wireless Technology) کی طرف بڑھنا ہے۔ ایپل طویل عرصے سے 'میگ سیف' (MagSafe) جیسی ٹیکنالوجیز پر کام کر رہا ہے، جس کا مقصد تاروں کے جھنجھٹ سے آزادی حاصل کرنا ہے۔ تاہم، یورپی یونین کے قوانین اس تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی قانونی دیوار ہیں۔ ان قوانین کا مقصد نہ صرف صارفین کی سہولت ہے بلکہ الیکٹرانک کچرے (e-waste) کو کم کرنا بھی ہے، جس کے لیے وہ ایک ہی قسم کے چارجر پر زور دے رہے ہیں۔ اگر ایپل مستقبل میں آئی فون سے پورٹ ہٹانے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے یورپی یونین کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، تکنیکی اعتبار سے وائرلیس چارجنگ کی رفتار اب بھی وائرڈ چارجنگ کے مقابلے میں سست ہے، جس کی وجہ سے صارفین کو ڈیٹا ٹرانسفر اور تیز رفتار چارجنگ کے لیے پورٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ ایپل کے لیے ایک پورٹ لیس آئی فون بنانا مارکیٹنگ کے لحاظ سے ایک بڑا قدم ہوگا، لیکن اس کے لیے اسے پہلے دنیا بھر میں وائرلیس انفراسٹرکچر کو مزید بہتر کرنا ہوگا۔ مجموعی طور پر، یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ آیا آئی فون سے چارجنگ پورٹ مکمل طور پر غائب ہو جائے گا یا نہیں۔ ایپل ہمیشہ سے اپنی منفرد حکمت عملی کے لیے جانا جاتا ہے، اور یہ ممکن ہے کہ وہ یورپی ضوابط کے اندر رہتے ہوئے کوئی ایسا اختراعی حل تلاش کر لے جو پورٹ کی ضرورت کو ہی ختم کر دے۔ فی الحال، صارفین کو یو ایس بی-سی پورٹ کے ساتھ ہی گزارا کرنا پڑے گا، جبکہ ٹیکنالوجی کے اس میدان میں آنے والے مہینوں میں مزید اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔