LIVE
Loading Breaking News...

بیوک الیکٹرا ایل 7 الیکٹرک کار اور امریکی مارکیٹ میں اس کی عدم دستیابی

News Image
بیوک نے چین میں اپنی جدید الیکٹرک سیڈان الیکٹرا ایل 7 کو 25 ہزار ڈالر کی قیمت پر متعارف کروا دیا ہے۔ اس سستی اور ٹیکنالوجی سے لیس کار کی دستیابی فی الحال صرف چینی مارکیٹ تک محدود رکھی گئی ہے۔
گاڑیوں کی عالمی مارکیٹ میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کی بڑھتی ہوئی مانگ کے درمیان، جنرل موٹرز کے برانڈ 'بیوک' نے چین میں اپنی نئی اور جدید ترین الیکٹرک سیڈان 'الیکٹرا ایل 7' متعارف کروا دی ہے۔ اس کار کی سب سے بڑی خاصیت اس کی قیمت ہے، جو تقریباً 25,000 امریکی ڈالر کے مساوی رکھی گئی ہے۔ یہ گاڑی اپنے دیدہ زیب ڈیزائن اور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت چین میں بہت زیادہ مقبول ہو رہی ہے، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سستی الیکٹرک سواری شمالی امریکہ اور دیگر مغربی منڈیوں کے خریداروں کے لیے فی الحال دستیاب نہیں ہوگی۔ امریکہ میں جہاں شیورلیٹ کی 'الٹیئم' سیریز مسلسل مہنگی اور پریمیم الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، وہیں بیوک کا چین میں یہ قدم ایک بالکل مختلف حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکی صارفین جو طویل عرصے سے ایک ایسی الیکٹرک گاڑی کے منتظر ہیں جو نہ صرف جدید فیچرز سے لیس ہو بلکہ بجٹ کے اندر بھی ہو، وہ اس اعلان کے بعد مایوسی کا شکار ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیوک کا یہ اقدام چین کی مقامی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کے لیے ہے جہاں الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں شدید مقابلہ پایا جاتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے الیکٹرا ایل 7 ایک مکمل پیکیج ہے، جس میں بہترین بیٹری رینج، انٹیلیجنٹ ڈرائیونگ اسسٹنس سسٹم اور پرتعیش انٹیرئیر شامل ہے۔ اگرچہ یہ گاڑی چینی صارفین کی پہنچ میں ہے، لیکن اس کی برآمد یا عالمی منڈی میں دستیابی کے بارے میں کمپنی کی جانب سے کوئی واضح اشارہ نہیں دیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر جی ایم گروپ ایسی ہی سستی گاڑیاں مغربی ممالک میں بھی متعارف کرائے تو الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت میں ایک نئی انقلاب برپا ہو سکتا ہے، تاہم فی الحال جغرافیائی حد بندیوں کی وجہ سے عالمی خریدار اس تجربے سے محروم رہیں گے۔ آخر میں، یہ پیش رفت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ عالمی آٹوموبائل کمپنیاں مختلف خطوں کے لیے الگ الگ پالیسیاں اپنا رہی ہیں۔ جبکہ چین جیسے ممالک میں قیمت کا حساس ہونا سب سے اہم ہے، امریکہ میں کمپنیاں ابھی بھی پریمیم سیگمنٹ میں منافع کمانے کو ترجیح دے رہی ہیں۔ یہ تضاد ثابت کرتا ہے کہ سستی الیکٹرک کاروں کا خواب ابھی بھی بہت سے ممالک کے لیے ایک دور کی خواہش بنا ہوا ہے، کیونکہ کمپنیوں کی توجہ مقامی منڈیوں کے تقاضوں پر زیادہ مرکوز ہے۔