LIVE
Loading Breaking News...

الیکٹرک طیارے اور مستقبل کی ایوی ایشن انڈسٹری

News Image
مستقبل قریب میں برقی طیارے جیٹ ایندھن کی جگہ لینے کے بجائے مختصر فضائی سفر کے لیے سب سے موزوں ثابت ہوں گے۔ اگرچہ روایتی ایندھن کی کھپت برقرار رہے گی، لیکن ایوی ایشن ٹیکنالوجی میں یہ تبدیلی ایک اہم پیش رفت ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ ہوا بازی کی صنعت طویل عرصے سے تیل کی کھپت کے لیے ایک محفوظ ترین منڈی تصور کی جاتی ہے، تاہم بدلتی ہوئی عالمی ٹیکنالوجی اب اس تاثر کو تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے۔ سن 2026 میں بھی یہ تخمینہ برقرار ہے کہ ہوابازی کا شعبہ جیٹ ایندھن پر انحصار جاری رکھے گا، جہاں ایئر لائنز سالانہ تقریباً 104 ارب گیلن ایندھن استعمال کرنے کی توقع رکھتی ہیں۔ پائیدار ہوابازی ایندھن (SAF) کا تناسب ابھی بھی کل استعمال کے 1 فیصد سے کم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روایتی ایندھن کی طلب میں فوری کمی کا امکان نہیں ہے۔ تاہم، برقی ہوابازی اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں یہ مختصر فاصلے کے روٹس پر اپنی افادیت ثابت کر رہی ہے۔ برقی طیارے طویل پروازوں کے لیے درکار بھاری بیٹریوں کے وزن کے چیلنج کا شکار ہیں، اس لیے انہیں ابتدائی طور پر ان مخصوص روٹس کے لیے منتخب کیا جا رہا ہے جہاں پرواز کا دورانیہ کم ہو۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی جیٹ ایندھن کا مکمل خاتمہ تو نہیں کر سکتی، لیکن یہ شارٹ ہال (Short-haul) پروازوں کے لیے ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ اس حکمت عملی کا فائدہ یہ ہے کہ ایئر لائنز اپنے ایندھن کے اخراجات میں کمی لا سکیں گی اور ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات کو بھی محدود کیا جا سکے گا۔ انڈسٹری کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برقی طیاروں کا استعمال ان چھوٹے شہروں کے درمیان رابطے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا جہاں روایتی کمرشل طیاروں کا آپریشن مہنگا اور غیر اقتصادی ہوتا ہے۔ جیسے جیسے بیٹری کی ٹیکنالوجی میں جدت آئے گی، برقی ہوابازی کے دائرہ کار میں مزید وسعت متوقع ہے۔ مجموعی طور پر، ہوابازی کا مستقبل ایک ایسے امتزاج کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں طویل فاصلوں کے لیے جیٹ ایندھن کا استعمال جاری رہے گا جبکہ قلیل فاصلوں کے لیے برقی طیارے ہوا بازی کی نئی تاریخ رقم کریں گے۔