LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کا اتحادیوں کو الٹی میٹم: مصنوعی ذہانت میں چین سے دوری اختیار کریں

News Image
امریکی حکومت نے اپنے اتحادی ممالک کو تنبیہ کی ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے چین اور امریکہ میں سے کسی ایک کو منتخب کریں۔ جو ممالک چین کے ساتھ اے آئی اشتراک کریں گے، انہیں امریکہ کی زیر قیادت اتحاد سے الگ کر دیا جائے گا۔
امریکہ نے اب مصنوعی ذہانت (AI) کی عالمی دوڑ میں ایک انتہائی سخت موقف اپناتے ہوئے اپنے اتحادی ممالک کو واضح پیغام دینے کا فیصلہ کیا ہے کہ انہیں اب چین اور امریکہ کے درمیان کسی ایک فریق کا انتخاب کرنا ہوگا۔ عالمی خبر رساں ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، بائیڈن انتظامیہ دنیا بھر کے درجنوں ممالک کے رہنماؤں پر یہ واضح کرنے کی تیاری کر رہی ہے کہ اگر انہوں نے چین کی زیر قیادت مصنوعی ذہانت کے منصوبوں میں شمولیت اختیار کی تو انہیں امریکی تعاون پر مبنی اے آئی اتحاد سے باہر رکھا جائے گا۔ یہ قدم دراصل ٹیکنالوجی کی جنگ کو ایک نئی سطح پر لے جانے کی کوشش ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت نہ صرف مستقبل کی معیشت بلکہ قومی سلامتی کا ایک اہم ستون ہے، اور اس شعبے میں چین کو جدید ترین ٹیکنالوجی تک رسائی دینے کا مطلب اپنی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ اسی لیے امریکہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی 'اے آئی کولیشن' کو محفوظ بنانے کے لیے سخت شرائط لاگو کرے گا۔ جن ممالک کی ٹیکنالوجی اور نیٹ ورک چین کے ساتھ منسلک ہوں گے، انہیں امریکی سافٹ ویئر، ہارڈ ویئر اور سیکیورٹی پروٹوکولز تک رسائی حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ پالیسی خاص طور پر ان ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے جو بیک وقت امریکہ کے تزویراتی اتحادی ہیں اور چین کے ساتھ تجارتی تعلقات میں گہرائی رکھتے ہیں۔ اس نئے امریکی موقف کے بعد عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں تقسیم کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دنیا کو دو بڑے تکنیکی بلاکس میں تقسیم کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سپلائی چین اور تحقیقی اشتراک کے عمل میں بڑی رکاوٹیں آ سکتی ہیں۔ بہت سے ممالک، خاص طور پر یورپی اور ایشیائی خطے کے ممالک، اب ایک مشکل دو راہے پر کھڑے ہیں جہاں انہیں اپنی معاشی ضروریات اور امریکی سیکیورٹی اتحاد کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ امریکہ کا یہ دبائو ظاہر کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ایک تجارتی مسابقت نہیں بلکہ یہ عالمی بالادستی کی ایک نئی جنگ بن چکی ہے جہاں ٹیکنالوجی کا انتخاب دراصل خارجہ پالیسی کا انتخاب بن گیا ہے۔