LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں صوبائی تقسیم اور 123 نئی انتظامی اکائیوں کا مطالبہ

News Image
پاکستان میں انتظامی امور کو بہتر بنانے اور نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی کے لیے 123 نئی صوبائی اکائیوں کے قیام پر سنجیدہ بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اور ماہرین اسے ملک کے جمہوری بحران سے نکلنے کا واحد راستہ قرار دے رہے ہیں۔
پاکستان میں حالیہ دنوں کے دوران انتظامی ڈھانچے کی تنظیمِ نو اور ملک بھر میں 123 نئی انتظامی اکائیوں (صوبوں) کے قیام کے حوالے سے بحث نے زور پکڑ لیا ہے۔ ملک کے نامور اخبارات اور تجزیاتی حلقوں میں اس موضوع پر سنجیدہ گفتگو جاری ہے کہ آیا موجودہ چار صوبائی نظام ملک کے وسیع تر مسائل اور بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ملک میں بڑھتا ہوا جمہوری خسارہ اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جس کے حل کے لیے انتظامی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (MQM-P) سمیت دیگر سیاسی قوتیں بھی نئے صوبوں کے قیام اور اس حوالے سے ایک قومی مکالمے کی ضرورت پر زور دے رہی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور چھوٹی انتظامی اکائیاں قائم کرنے سے عوامی مسائل فوری طور پر حل کیے جا سکتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بڑے صوبوں میں وسائل کا مرکزیت میں ہونا پسماندہ علاقوں کے عوام کے لیے محرومی کا باعث بنتا ہے، لہذا نئی انتظامی اکائیاں اس خلا کو پر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ دوسری جانب، وفاقی حکومت اور دیگر اہم حلقوں کی جانب سے بھی انتظامی یونٹس کی تنظیمِ نو کو 'سنجیدہ غور و خوض' کے تحت لایا گیا ہے۔ یہ معاملہ محض سیاسی نعرے بازی تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے پاکستان کی معاشی اور انتظامی بقا کا سوال بھی پوشیدہ ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ملک کو جمہوری استحکام اور مستحکم معاشی ترقی کی طرف لے جانا ہے تو انتظامی ڈھانچے میں ایسی تبدیلیاں لانا ہوں گی جو عوامی امنگوں کی ترجمانی کر سکیں۔ آخر میں، یہ دیکھنا باقی ہے کہ سیاسی جماعتیں اس حساس مسئلے پر کتنا اتفاق رائے پیدا کر پاتی ہیں۔ 123 انتظامی اکائیوں کا قیام جہاں ایک بڑا انتظامی چیلنج ہے، وہیں یہ ملک کے طویل مدتی مسائل کا دیرپا حل بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر ان اصلاحات کو درست سمت میں نافذ کیا جائے تو یہ نہ صرف سرکاری مشینری کو فعال بنائیں گی بلکہ ملک کے دور افتادہ علاقوں میں بھی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔