Technology
افریقی اسٹارٹ اپس میں فِن ٹیک سے مصنوعی ذہانت کی طرف منتقلی
افریقی اسٹارٹ اپس اب فِن ٹیک کے علاوہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں۔ یہ نئی لہر براعظم میں معاشی ترقی اور تکنیکی انقلاب کی نئی راہیں ہموار کرے گی۔
افریقی خطے میں قائم ہونے والے نئے اسٹارٹ اپس نے اپنی توجہ فِن ٹیک یعنی مالیاتی ٹیکنالوجی سے ہٹا کر اب مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر جدید شعبوں پر مرکوز کرنا شروع کر دی ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران افریقی مارکیٹ میں فِن ٹیک کا طوطا بولتا رہا ہے اور خطے کے بیشتر سرمایہ کاری فنڈز اسی شعبے کی طرف آتے رہے ہیں، تاہم اب کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کا رجحان بدل رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ترقی کی اگلی لہر روایتی مالیاتی خدمات سے آگے بڑھ کر ڈیجیٹل اور خودکار نظاموں کے قیام پر مشتمل ہوگی۔ اس تبدیلی کا مقصد افریقہ کے اہم مسائل کو حل کرنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی بالخصوص مصنوعی ذہانت کا موثر استعمال کرنا ہے۔ مالیاتی انفراسٹرکچر اور ذہین الگورتھمز کا امتزاج اب نئے کاروباری ماڈلز کی بنیاد بن رہا ہے، جو زراعت، صحت، تعلیم اور تجارت جیسے شعبوں میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس نئی حکمت عملی کے تحت افریقی نوجوان اور نووارد کمپنیاں محض بینکنگ اور ادائیگی کے نظام تک محدود رہنے کے بجائے ایسے سافٹ ویئر اور سسٹمز تیار کر رہی ہیں جو وسیع تر معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوں۔ اس پیشرفت کو افریقی معیشت کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی افریقی ٹیک سیکٹر کا اثر و رسوخ مزید مستحکم ہوگا۔ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ فِن ٹیک کے ساتھ مصنوعی ذہانت کا یہ امتزاج آنے والے برسوں میں پورے خطے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، کیونکہ اس سے کاروباری کارکردگی اور پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔