LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی متاثر، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

News Image
آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز پر ہونے والے حملوں اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے بعد عالمی تجارتی جہاز رانی کی سرگرمیوں میں سست روی دیکھی جا رہی ہے۔ امریکی دھمکیوں اور اسرائیل و حزب اللہ کے درمیان جاری تناؤ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث جہاز رانی کے عمل میں نمایاں سست روی ریکارڈ کی گئی ہے۔ حالیہ عرصے میں آئل ٹینکرز پر ہونے والے پے در پے حملوں اور امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید اقتصادی دباؤ ڈالنے کی دھمکیوں نے عالمی شپنگ انڈسٹری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے مال بردار بحری جہازوں کی تعداد میں کمی دیکھی جا رہی ہے، جس کے براہ راست اثرات عالمی سپلائی چین پر پڑ رہے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں نصف فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ یہ خدشات ہیں کہ آبنائے ہرمز کے محفوظ ہونے کی امیدیں ماند پڑ رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اس راستے سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اور کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال عالمی توانائی کے تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین بڑھتی ہوئی سیاسی تلخیوں نے جہاز رانی کمپنیوں کو اپنے روٹس تبدیل کرنے یا سفر میں تاخیر پر مجبور کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں، مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین جاری حالیہ کشیدگی نے بھی خطے کی سکیورٹی کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔ یہ جغرافیائی سیاسی بحران نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی چیلنج بنا ہوا ہے۔ انویسٹمنٹ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اسی طرح متاثر رہی تو ایندھن کی عالمی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک نیا لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ فی الحال، شپنگ کمپنیاں اور عالمی تجارتی ادارے انتہائی محتاط انداز اپنائے ہوئے ہیں۔ تجارتی ڈیٹا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹینکروں کی نقل و حرکت میں کمی کا رجحان برقرار ہے کیونکہ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر انشورنس اخراجات اور آپریشنل خطرات بڑھ گئے ہیں۔ مستقبل قریب میں صورتحال کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ خطے میں سفارتی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں اور کیا عالمی طاقتیں اس اہم آبی گزرگاہ کو تجارتی آمدورفت کے لیے محفوظ بنانے میں کوئی ٹھوس لائحہ عمل اختیار کر سکیں گی۔