LIVE
Loading Breaking News...

مشرق وسطیٰ کی صورتحال: حماس اور جیراڈ کشنر میں ملاقات، غزہ امن منصوبے پر زور

News Image
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے درمیان حماس کے رہنما اور جیراڈ کشنر کے مابین قاہرہ میں اہم ملاقات ہوئی ہے۔ حماس نے عالمی امن بورڈ سے غزہ میں جنگ بندی کے منصوبے پر اسرائیل کو آمادہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے درمیان ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں تہران اور امریکا کے مابین طے شدہ مفاہمت کی یادداشت (MoU) اپنی میعاد کے اختتام کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اس نازک موڑ پر، خطے میں جاری سیاسی اور سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جس کا مقصد ممکنہ علاقائی جنگ کو روکنا اور غزہ میں جاری بحران کا حل تلاش کرنا ہے۔ قاہرہ میں ہونے والی ایک اہم بیٹھک میں حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیہ کی سابق امریکی مشیر جیراڈ کشنر سے ملاقات ہوئی ہے، جس نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس ملاقات کے دوران حماس نے 'بورڈ آف پیس' سے بھرپور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے اور اسے غزہ میں جاری امن منصوبے کو قبول کرنے پر مجبور کرے۔ حماس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب اسرائیل جارحیت بند کرے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے۔ حماس کی جانب سے یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران اور امریکا کے مابین کشیدگی اپنے عروج پر ہے، جس سے پورے خطے میں جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر تہران اور واشنگٹن کے درمیان موجود مفاہمت کی یادداشت ختم ہو جاتی ہے، تو خطے میں عسکری تناؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ جیراڈ کشنر کی مداخلت اور حماس کے ساتھ ان کے رابطوں کو اس بحران سے نکلنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، اسرائیل کا رویہ اب بھی غیر لچکدار بنا ہوا ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی ثالثی کی کوششوں کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ہے۔ مستقبل کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں، کیونکہ اگر فریقین کسی سمجھوتے پر متفق نہیں ہوتے تو مشرق وسطیٰ ایک بڑی تباہی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دن انتہائی اہم ہیں، کیونکہ امریکا اور دیگر علاقائی طاقتیں ایران کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے یا کم از کم کسی بڑے تصادم کو ٹالنے کے لیے سرگرم ہیں۔ حماس کا یہ مطالبہ کہ امن منصوبے پر اسرائیل کو آمادہ کیا جائے، اس پیچیدہ صورتحال میں ایک نئی سیاسی جہت فراہم کرتا ہے جسے نظر انداز کرنا مشکل ہوگا۔