LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی وزیر بین گویر کا متنازع بیان: غزہ میں ہلاکتوں کا مطالبہ

News Image
اسرائیلی نیشنل سکیورٹی منسٹر بین گویر نے غزہ میں جاری جنگ کے دوران متنازع بیان دیتے ہوئے فلسطینیوں کے خلاف سخت اقدامات کی تجویز دی ہے۔ ان کے اس بیان پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی کابینہ کے رکن اور وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے غزہ میں جاری جنگ کے حوالے سے انتہائی اشتعال انگیز بیان دیا ہے۔ ایک حالیہ بیان میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں ہر رات 30 سے 40 فلسطینیوں کو ہلاک کیا جانا چاہیے۔ ان کے اس بیان نے نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی شدید ردعمل کو جنم دیا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔ بن گویر، جو اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کا حصہ ہیں، ملک کی جنگی پالیسیوں کو ترتیب دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے اس قسم کے بیانات کو سرکاری سطح پر تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ غزہ میں جاری موجودہ بحران کے دوران، جہاں پہلے ہی ہزاروں کی تعداد میں عام شہری جاں بحق ہو چکے ہیں، ایسی اشتعال انگیز تقریریں خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کا باعث بن سکتی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی حکومت کے اندر اس طرح کے انتہا پسندانہ نظریات کا پرچار ثابت کرتا ہے کہ جنگ کا مقصد محض سکیورٹی نہیں بلکہ منظم تباہی ہے۔ دوسری جانب، عالمی برادری نے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے۔ اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کے رکن کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی عدالتوں میں بھی اسرائیل کی جنگی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے اب اس مطالبے کو ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اس طرح کے بیانات سے نہ صرف امن کی کوششیں سبوتاژ ہوتی ہیں بلکہ یہ نسل کشی کے مترادف اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔