Business
جنرل ڈائنامکس کا آرٹلری پروجیکٹ: 533 ملین ڈالر کا نقصان
امریکی فوج کی جانب سے جنرل ڈائنامکس کو آرٹلری گولہ بارود کی پیداوار کے لیے دیے گئے 533 ملین ڈالر ضائع ہو گئے۔ کمپنی کی ڈلاس کے قریب قائم جدید فیکٹری میں تکنیکی خرابیوں اور آگ لگنے کے واقعات کے باعث پیداواری عمل شروع ہی نہ ہو سکا۔
امریکی دفاعی صنعت میں ایک بڑے اسکینڈل کا انکشاف ہوا ہے جس کے مطابق امریکی فوج کی جانب سے 'جنرل ڈائنامکس' کو 533 ملین ڈالر کی خطیر رقم آرٹلری گولہ بارود کی تیاری کے لیے دی گئی تھی، تاہم یہ منصوبہ مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا اور فیکٹری ایک بھی گولہ تیار کرنے میں ناکام رہی۔ ڈلاس کے قریب واقع اس جدید فیکٹری میں جدید ترین روبوٹک نظام نصب کیا گیا تھا جس کا مقصد آرٹلری گولوں کی پیداوار کو تیز کرنا تھا، لیکن یہ مشینری محض ایک بھاری بھرکم کباڑ ثابت ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق فیکٹری میں آئے روز روبوٹس میں آگ لگنے کے واقعات رونما ہوتے رہے جس نے پیداواری عمل کو بری طرح متاثر کیا اور یہ منصوبہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔
اس منصوبے کی ناکامی کی بنیادی وجہ انتہائی پیچیدہ اور غیر موثر ٹیکنالوجی کا استعمال بتایا جا رہا ہے۔ گرمی کے موسم میں جب فیکٹری کے اندر درجہ حرارت بڑھتا تھا تو جدید روبوٹس میں شارٹ سرکٹ اور آگ لگنے کا معمول بن گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنرل ڈائنامکس نے جس ٹیکنالوجی پر انحصار کیا، وہ فیکٹری کے ماحول کے لیے قطعی موزوں نہیں تھی اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت موجود تھی۔ اس صورتحال نے نہ صرف امریکی ٹیکس دہندگان کے کروڑوں ڈالر ضائع کیے بلکہ امریکی فوج کی آرٹلری کی قلت کو پورا کرنے کی صلاحیت پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اب اس معاملے پر امریکی حکام کی جانب سے تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ آخر کس بنیاد پر اتنی بڑی رقم ایسی کمپنی کو دی گئی جو بنیادی پیداواری اہداف حاصل کرنے میں بھی ناکام رہی۔ جنرل ڈائنامکس کی جانب سے ان الزامات کے بعد خاموشی اختیار کی گئی ہے، تاہم دفاعی ماہرین اسے حکومتی فنڈز کے ضیاع کی ایک بڑی مثال قرار دے رہے ہیں۔ یوکرین اور دیگر محاذوں پر گولہ بارود کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر امریکی فوج کے لیے یہ ناکامی ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ اس پلانٹ سے توقع کی جا رہی تھی کہ یہ امریکی عسکری صلاحیت میں اہم اضافہ کرے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا حکومت جنرل ڈائنامکس سے اس رقم کی واپسی کا مطالبہ کرے گی یا یہ معاملہ بھی دیگر سرکاری فائلوں کی طرح دب جائے گا۔