World
ساولا کیا ہے؟ دنیا کا سب سے کم جانا جانے والا پر اسرار جانور
دنیا میں کئی ایسے جانور ہیں جن کے بارے میں عام لوگ بہت کم جانتے ہیں جن میں ساولا سر فہرست ہے۔ یہ انتہائی نایاب جانور اپنی پر اسرار فطرت کی وجہ سے 'ایشیائی گینڈا' کہلاتا ہے اور اسے دیکھنا سائنسدانوں کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔
قدرتی دنیا کے بے شمار رازوں میں سے ایک بڑا سوال یہ ہے کہ دنیا کا سب سے کم جانا جانے والا یا پر اسرار جانور کون سا ہے؟ اگرچہ اس کا جواب موضوعی نوعیت کا ہو سکتا ہے، تاہم ماہرین حیاتیات کی اکثریت 'ساولا' (Saola) کو اس فہرست میں سرفہرست رکھتی ہے۔ ساولا ایک ایسا جانور ہے جو اپنی شکل و صورت اور نایابی کی وجہ سے 'ایشیائی گینڈا' (Asian Unicorn) کے نام سے بھی مشہور ہے۔ یہ جانور گائے کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے لیکن اس کی ظاہری شکل اسے دنیا کے دیگر تمام مویشیوں سے الگ کرتی ہے۔
ساولا کا تعلق بنیادی طور پر ویتنام اور لاؤس کے جنگلات سے ہے، جہاں یہ انتہائی گھنے اور دشوار گزار علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ اس جانور کی سب سے بڑی خاصیت اس کی انتہائی پر اسرار فطرت ہے۔ ماہرین کے مطابق، ساولا کو جنگل میں قدرتی ماحول میں دیکھنا تقریباً ناممکن ہے، اسی لیے اسے 'ایشیائی گینڈا' کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے بارے میں کہانیاں تو بہت مشہور ہیں لیکن ثبوت کے طور پر اس کی فوٹیج یا تصاویر بہت کم دستیاب ہیں۔ یہ جانور سن 1992 میں پہلی بار دنیا کی نظروں میں آیا، جس نے حیاتیات کے ماہرین کو حیران کر دیا کہ اتنا بڑا جانور اتنے طویل عرصے تک انسانی نظروں سے کیسے پوشیدہ رہا۔
بدقسمتی سے، ساولا اس وقت شدید خطرے سے دوچار (Critically Endangered) جانوروں کی فہرست میں شامل ہے۔ ان کی آبادی کے بارے میں درست اعداد و شمار بتانا انتہائی مشکل ہے کیونکہ یہ بہت کم دکھائی دیتے ہیں، تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ جنگلات کی کٹائی اور غیر قانونی شکار نے ان کی نسل کو ختم ہونے کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ تحفظِ جنگلی حیات کے ادارے ان کی بقا کے لیے کوشاں ہیں تاکہ اس نادر اور خوبصورت جانور کو مکمل طور پر معدوم ہونے سے بچایا جا سکے۔
ساولا کی کہانی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ ہماری زمین پر ابھی بھی ایسے بہت سے جاندار موجود ہیں جن کے بارے میں ہم نہ ہونے کے برابر جانتے ہیں۔ ان کی پر اسرار زندگی اور انسانی اثرات سے ان کے بچاؤ کی جدوجہد، قدرتی ماحول کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ اگر ساولا جیسے نایاب جانوروں کو محفوظ نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں شاید صرف کتابوں اور تصاویر میں ہی اس 'ایشیائی گینڈے' کا ذکر پڑھ سکیں گی۔