Technology
جنوبی کوریا میں مصنوعی ذہانت کا تیزی سے بڑھتا ہوا اثر
جنوبی کوریا میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ امریکہ کی نسبت بھی کہیں زیادہ تیزی سے جاری ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ سماجی رویوں اور ڈیجیٹل مواصلات کے طریقوں میں بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے اثرات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں، تاہم جنوبی کوریا اس دوڑ میں غیر معمولی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا میں مصنوعی ذہانت کو اپنانے کی شرح امریکہ کی نسبت بھی کافی زیادہ ہے۔ ملک کے صنعتی ڈھانچے سے لے کر روزمرہ کی زندگی تک، AI ٹیکنالوجی کا نفوذ انتہائی گہرائی تک پہنچ چکا ہے۔ اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ کوریا کا مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے میں وہاں کی نوجوان نسل کی بے پناہ دلچسپی ہے۔ نہ صرف بڑے کاروبار بلکہ چھوٹے پیمانے کے کاموں میں بھی اب خودکار سسٹمز کا استعمال ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب سماجی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل مواصلات میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ حال ہی میں ہونے والی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ایموجیز کا استعمال اب بات چیت کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے، جس میں نوجوان نسل، بالخصوص ٹین ایجر لڑکیاں، نئے رجحانات متعین کر رہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب لوگ اپنے جذبات کے اظہار کے لیے روایتی طریقوں کے بجائے ایموجیز کے نئے اور منفرد انداز کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کس طرح ہماری سماجی زبان کو متاثر کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، جنوبی کوریا میں زرعی اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے روبوٹکس کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔ مثال کے طور پر، 'چیری بلاسم' یا چیری کے پھولوں کے سیزن کو محفوظ بنانے کے لیے روبوٹس کی مدد لی جا رہی ہے، جو موسمی تغیرات کے باوجود فصلوں اور باغات کی دیکھ بھال میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف پیداوار کو بہتر بنا رہی ہے بلکہ قدرتی حسن کو برقرار رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ مجموعی طور پر، جنوبی کوریا ٹیکنالوجی کے استعمال میں دنیا کے لیے ایک نیا ماڈل پیش کر رہا ہے جہاں انسانی سہولت اور جدت کو ایک ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اس تیز رفتار تبدیلی نے جہاں صنعتی شعبے کو نئی راہیں دکھائی ہیں، وہیں عام زندگی میں بھی سہولتوں کے نئے در وا کر دیے ہیں۔ آنے والے وقتوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ رفتار اسی طرح برقرار رہتی ہے یا نہیں، لیکن فی الحال جنوبی کوریا بلاشبہ عالمی ٹیکنالوجی کے نقشے پر ایک نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔