World
چین کی نگرانی والی ٹیکنالوجی اور دنیا میں ڈیجیٹل آمریت کا خطرہ
چین دنیا بھر میں نگرانی کرنے والی جدید ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا برآمد کنندہ بن چکا ہے جس پر عالمی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مختلف ممالک میں شخصی آزادیوں کو سلب کرنے اور ڈیجیٹل آمریت قائم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
چین اس وقت دنیا بھر میں نگرانی کرنے والی جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت سے لیس کیمروں، اور ڈیٹا اینالیٹکس سسٹمز کا سب سے بڑا برآمد کنندہ بن کر ابھرا ہے۔ ماہرینِ خارجہ اور ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے فراہم کردہ یہ نظام اب نہ صرف ایشیا بلکہ افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک میں بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بیجنگ کا مقصد ان ممالک کو اپنے طرز کی 'ڈیجیٹل آمریت' میں بدلنا ہے؟ یہ ٹیکنالوجی بظاہر تو جرائم کی روک تھام اور پبلک سیکیورٹی کے نام پر بیچی جاتی ہے، لیکن اس کی گہرائی میں شہریوں کی نگرانی اور مخالفین کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی صلاحیتیں موجود ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، چین کے تیار کردہ نگرانی کے آلات ان ممالک میں حکومتوں کو اپنے شہریوں کی ہر سرگرمی پر نظر رکھنے کی مکمل آزادی فراہم کرتے ہیں۔ چہرے کی شناخت (فیشل ریکگنیشن) کے جدید ترین سافٹ ویئر، انٹرنیٹ مانیٹرنگ کے ٹولز اور بڑے پیمانے پر ڈیٹا اکٹھا کرنے والے نظام آمریت پسند حکمرانوں کے لیے ایک طاقتور ہتھیار ثابت ہو رہے ہیں۔ جب کوئی ملک ان ٹیکنالوجیز کو اپناتا ہے، تو وہاں نجی زندگی کا تصور تیزی سے ختم ہو جاتا ہے، جس سے انسانی حقوق کے کارکنوں اور اپوزیشن رہنماؤں کے لیے خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرزِ عمل کو بین الاقوامی حلقوں میں 'ڈیجیٹل آتھوریٹیرین ازم' کا نام دیا جا رہا ہے۔
اس صورتحال کے حوالے سے مغرب کے کئی ممالک نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین کا ماننا ہے کہ چین کی یہ پالیسی عالمی جمہوری اقدار کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ چین ان ٹیکنالوجیز کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے اور ان ممالک کو اپنا 'ڈیجیٹل سیٹلائٹ' بنا رہا ہے جو اس کی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر اس ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کو منظم انداز میں نہیں روکا گیا، تو آنے والے برسوں میں دنیا بھر میں نجی آزادیوں اور انسانی حقوق کی صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، کیونکہ نگرانی کا یہ نظام اب سرحدوں سے باہر ایک عالمی نیٹ ورک کی شکل اختیار کر رہا ہے۔