LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں مون سون بارشیں اور سیلاب کا خطرہ تازہ ترین خبریں

News Image
پاکستان میں 29 جولائی سے مون سون بارشوں کے ایک نئے سلسلے کا آغاز متوقع ہے جس سے دریاؤں میں دوبارہ طغیانی کا خدشہ ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی اور فوڈ سیکیورٹی کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔
محکمہ موسمیات پاکستان (پی ایم ڈی) نے خبردار کیا ہے کہ 29 جولائی سے ملک بھر میں مون سون بارشوں کا ایک اور طاقتور سلسلہ داخل ہونے جا رہا ہے، جس کے باعث اہم دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ اس تازہ ترین موسمیاتی تبدیلی کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے اور نش نشیبی علاقوں میں ممکنہ سیلاب کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔ حالیہ مون سون بارشوں کے دوران ملک بھر میں مختلف حادثات اور سیلابی ریلوں کے باعث اب تک جانی نقصان کی تعداد 109 تک پہنچ چکی ہے، جو کہ ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ اس صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اہم اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر میں جاری مون سون سیزن اور بالخصوص سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے زور دیا کہ موجودہ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پانی کے مؤثر انتظام (واٹر ریگولیشن)، موسمیاتی لچک (क्लाइमेट রেজিলিয়েন্স) اور ملک کی فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں کو باہم مربوط ہو کر کام کرنے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے پیشگی اقدامات اٹھانے کی سختی سے ہدایت کی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون کے اس نئے سلسلے سے زرعی شعبے کو کچھ فوائد تو حاصل ہو سکتے ہیں تاہم اس کے ساتھ ساتھ شدید بارشوں اور اربن فلڈنگ کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ وفاقی وزیر اور دیگر حکام بھی مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ اس مقصد کے لیے آبی ذخائر کی بہتری، نکاسی آب کے نظام کی اپ گریڈیشن اور بروقت وارننگ سسٹمز کا قیام ناگزیر قرار دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے قدرتی آفات کے منفی اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔