Technology
اپالو 11 کمپیوٹر اور جدید ٹیکنالوجی کا موازنہ
انسانی تاریخ کے اہم ترین مشن اپالو 11 میں استعمال ہونے والے کمپیوٹر کی طاقت آج کے معمولی آلات کے مقابلے میں انتہائی محدود تھی۔ آج ہماری جیبوں میں موجود ٹیکنالوجی چاند پر پہنچنے والے کمپیوٹر سے ہزاروں گنا زیادہ پروسیسنگ کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انسانی تاریخ کا سب سے بڑا کارنامہ یعنی چاند پر اترنے کا مشن اپالو 11، تکنیکی اعتبار سے ایک معجزہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ جس گائیڈنس کمپیوٹر (AGC) نے انسانوں کو زمین سے 2 لاکھ 40 ہزار میل دور چاند تک پہنچایا، اس کی پروسیسنگ طاقت آج کے دور کے ایک معمولی کیلکولیٹر سے بھی کم تھی۔ ناسا کے اس دور کے کمپیوٹر کا بنیادی مقصد خلائی جہاز کو درست سمت فراہم کرنا تھا، لیکن جدید دور میں ٹیکنالوجی جس تیزی سے ارتقا پذیر ہوئی ہے، اس کا اندازہ لگانا عام انسان کے لیے مشکل ہے۔
آج ہمارے ہاتھوں میں موجود سمارٹ فونز، یہاں تک کہ بچوں کے کھیلنے والے ڈیجیٹل کھلونے اور کچن میں استعمال ہونے والے سمارٹ آلات بھی اپالو 11 کے کمپیوٹر سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں۔ ایک جدید سمارٹ فون میں موجود پروسیسر نہ صرف لاکھوں گنا زیادہ تیز ہے، بلکہ یہ بیک وقت سینکڑوں پیچیدہ کام انجام دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس کے برعکس، اپالو کمپیوٹر کی ریم (RAM) صرف 4 کلو بائٹس تھی، جبکہ آج کا ایک معمولی یو ایس بی ڈرائیو بھی اس سے لاکھوں گنا زیادہ ڈیٹا ذخیرہ کر سکتا ہے۔
ان پانچ عام گیجٹس میں سمارٹ واچ، ڈیجیٹل کیمرے، سمارٹ فونز، جدید مائیکرو ویو اوون اور یہاں تک کہ جدید بچوں کے گیمنگ کنسولز بھی شامل ہیں۔ یہ تمام آلات ان سینسرز اور سافٹ ویئر سے لیس ہیں جو اپالو مشن کے کمپیوٹر کے خوابوں میں بھی نہیں تھے۔ یہ حقیقت اس بات کی گواہی ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں میں ٹیکنالوجی نے کس قدر طویل سفر طے کیا ہے۔ آج کی دنیا میں ٹیکنالوجی صرف ایک سہولت نہیں بلکہ انسانی ترقی کا پہیہ بن چکی ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید طاقتور ہوتی جا رہی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اپالو 11 کی کامیابی اس کے کمپیوٹر کی طاقت میں نہیں بلکہ اس وقت کے انجینئرز کی مہارت اور لگن میں پوشیدہ تھی۔ آج ہمارے پاس موجود وافر پروسیسنگ پاور کے باوجود، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اسی محدود ٹیکنالوجی نے انسانیت کو ستاروں تک پہنچنے کا حوصلہ دیا تھا۔ آج کے جدید گیجٹس یقیناً طاقتور ہیں، لیکن ان کی بنیاد ان تاریخی ایجادات پر رکھی گئی ہے جنہوں نے خلائی تحقیق کی نئی راہیں ہموار کیں۔