World
پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کا نیا دفاعی اتحاد اور اس کے اثرات
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے مابین دفاعی معاہدے نے عالمی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے جس کا ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی خیرمقدم کیا ہے۔ اس اتحاد کے بعد مصر کے بھی اس بلاک میں شامل ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان ایک نئے دفاعی معاہدے کی اطلاعات نے عالمی طاقتوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے خاتمے اور ایک نئے تزویراتی اتحاد کے قیام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خبروں کے مطابق، اس تین فریقی دفاعی بلاک کا مقصد خطے میں سیکیورٹی چیلنجز کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنا اور باہمی عسکری تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس اتحاد کا خیرمقدم کیا جانا ایک حیران کن مگر اہم پیش رفت ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر بدلتے ہوئے اتحادوں کو مغربی حلقے بھی اہمیت دے رہے ہیں۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اس معاہدے کی تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے اس امکان کو بھی رد نہیں کیا کہ مستقبل قریب میں مصر بھی اس بلاک کا حصہ بن سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر مصر اس اتحاد میں شامل ہوتا ہے، تو یہ مسلم دنیا کی سب سے بڑی عسکری اور سیاسی طاقت کے طور پر ابھرے گا جو مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔ کونسل آن فارن ریلیشنز کے تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ معاہدہ 'مکہ معاہدے' کی ایک کڑی ہے جس نے ثابت کر دیا ہے کہ اب خطے کا پرانا امریکی نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور اب مقامی طاقتیں اپنی سیکیورٹی خود سنبھالنے کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ پاکستان کے لیے اس اتحاد کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ نہ صرف پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث بنے گا بلکہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات کو ایک نئی جہت عطا کرے گا۔ آنے والے دنوں میں اس اتحاد کے عملی اثرات واضح ہوں گے، تاہم فی الحال یہ خطے کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کے پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔ عالمی مبصرین اس پیش رفت کو ایک نئے دور کا آغاز قرار دے رہے ہیں جہاں عالمی سیاست مرکزیت سے نکل کر علاقائی بلاکس کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔