Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، امریکہ ایران کشیدگی کے اثرات
امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی اور مذاکرات میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال پائی جا رہی ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سپلائی چین کے خدشات کی وجہ سے قیمتوں میں اضافے کے امکانات موجود ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں کے دوران اتار چڑھاؤ کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی تعطل اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی صورتحال ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید معاشی دباؤ ڈالنے کی دھمکیوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے براہ راست اثرات توانائی کی سپلائی لائنوں پر پڑ رہے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی نقل و حمل سست پڑ جانے سے عالمی منڈی میں تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
اس کے علاوہ برینٹ کروڈ آئل کی قیمتوں میں 0.5 فیصد تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جھڑپوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری اس تازہ ترین تناؤ نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے کیونکہ خطے میں کسی بھی قسم کی جنگی صورتحال تیل کی عالمی ترسیل کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ اسی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ہفتہ وار بنیادوں پر نمایاں اضافے کی جانب گامزن دکھائی دیتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے مابین جاری مذاکرات جلد کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے تو آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید تیزی دیکھی جا سکتی ہے۔ ایران پر عائد پابندیوں میں سختی اور خطے میں عسکری نقل و حرکت میں اضافہ عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے بڑے خطرے کی گھنٹی ہے۔ مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والا وقت تیل کی قیمتوں کے حوالے سے انتہائی اہم ہوگا کیونکہ خلیجی ممالک کی جانب سے سپلائی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کو نئے بحران سے دوچار کر سکتی ہے۔
مجموعی طور پر، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا انحصار اب مکمل طور پر خطے کی سیاسی و عسکری صورتحال پر منحصر ہے۔ جہاں ایک طرف تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، وہیں عالمی طاقتوں کے درمیان جاری کشیدگی نے تیل کے خریداروں اور فروخت کنندگان کے لیے ایک غیر یقینی فضا پیدا کر دی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں امریکہ، ایران اور دیگر علاقائی ممالک کے اقدامات عالمی توانائی کی قیمتوں کے تعین میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔