Technology
اینتھروپک کلود: جنریٹو اے آئی واٹر مارکنگ اور صارفین کے تحفظات
اینتھروپک کمپنی کی جانب سے کلود اے آئی ماڈل میں متعارف کرائے گئے نئے ٹیکسٹ واٹر مارکنگ سسٹم نے صارفین میں شدید تحفظات پیدا کر دیے ہیں۔ اس تکنیکی تبدیلی کے بعد صارفین کی جانب سے سبسکرپشنز منسوخ کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس نے اے آئی گورننس کے عالمی چیلنجوں کو اجاگر کیا ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی پیشرفت کے ساتھ اب اخلاقی اور قانونی حدود کا تعین ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں معروف اے آئی کمپنی 'اینتھروپک' (Anthropic) نے اپنے چیٹ بوٹ 'کلود' (Claude) میں ایک نیا ٹیکسٹ واٹر مارکنگ سسٹم متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد جنریٹو اے آئی سے تیار کردہ مواد کی شناخت کو ممکن بنانا ہے۔ تاہم، اس اقدام نے صارفین کے ایک بڑے طبقے میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں کئی صارفین اپنی ماہانہ سبسکرپشنز منسوخ کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اور صارفین اے آئی کے استعمال اور اس کی شفافیت کے حوالے سے کس قدر تضاد کا شکار ہیں۔
واٹر مارکنگ کا یہ نیا طریقہ کار اس لیے متعارف کرایا گیا ہے تاکہ انٹرنیٹ پر اے آئی سے تیار کردہ مواد (AI Slop) کی بڑھتی ہوئی بہتات کو روکا جا سکے اور مواد کی صداقت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اینتھروپک کا موقف ہے کہ یہ اقدام اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے ناگزیر ہے، لیکن دوسری جانب صارفین اس عمل کو اپنی پرائیویسی اور تخلیقی آزادی میں مداخلت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی فورمز پر ہونے والی بحث میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ صارفین اس تکنیک کے طویل مدتی اثرات اور ڈیٹا سیکیورٹی کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں، جس نے کمپنی کی ساکھ پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اس تناظر میں 'راؤنڈ ٹیبل 36' جیسے مباحثوں میں عالمی سطح پر اے آئی گورننس کی حدود پر سنجیدہ بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ سرحد پار گورننس (Cross-Border Governance) کے حوالے سے یہ سوال اب زور پکڑ رہا ہے کہ کیا کوئی ایک نجی کمپنی عالمی سطح پر ڈیٹا کی شناخت اور نگرانی کے لیے خود ساختہ ضابطے نافذ کر سکتی ہے؟ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اینتھروپک جیسی کمپنیاں یکطرفہ طور پر ایسے فیچرز متعارف کراتی رہیں، تو عالمی سطح پر اے آئی کے ضوابط میں مزید انتشار پیدا ہو سکتا ہے۔ اینتھروپک کے سی ای او ڈاریو اموڈئی اور دیگر انتظامیہ اس صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم صارفین کا بڑھتا ہوا عدم اطمینان ٹیکنالوجی سیکٹر کے لیے ایک بڑا سبق ہے۔