World
ایران اور عمان تعلقات: آبنائے ہرمز کی انتظامی تجویز مسترد
ایران نے آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے عمان کی جانب سے پیش کی جانے والی مشترکہ تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ پر اسے مزید اور مکمل کنٹرول حاصل ہونا چاہیے۔
تہران: ایران نے آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام کے حوالے سے عمان کی طرف سے پیش کردہ مشترکہ تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے اس اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ پر اپنے کنٹرول کو مزید بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سکیورٹی کے امور پر تبادلہ خیال جاری ہے۔ عمان نے خلیجی ممالک کی حمایت سے ایک ایسا منصوبہ پیش کیا تھا جس کا مقصد آبنائے ہرمز کے امور کو باہمی مشاورت سے چلانا تھا، تاہم ایرانی حکام نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ نے اس اہم بحری راستے کی سکیورٹی کے معاملے پر اپنے سعودی اور عمانی ہم منصبوں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بین الاقوامی تجارت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے یہ مذاکرات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ دوسری جانب، عالمی سطح پر بھی اس آبی گزرگاہ کے انتظام کو لے کر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں اور امریکہ سمیت دیگر طاقتیں بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی حساس اور کلیدی رستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنز کو براہ راست متاثر کر سکتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف ہے کہ خطے کے ممالک کو ہی مل کر سکیورٹی کے معاملات کو حل کرنا چاہیے اور بیرونی مداخلت سے گریز کیا جائے۔ آنے والے دنوں میں اس تنازع اور مذاکرات کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں، یہ خطے کے مستقبل کے لیے بہت اہم ہوگا۔