LIVE
Loading Breaking News...

بھارتی سیمی کنڈکٹر اسٹارٹ اپس کو فنڈنگ اور پیداوار میں مشکلات

News Image
بھارت میں سیمی کنڈکٹر اور فزیکل اے آئی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ تو دیکھا گیا ہے، تاہم اسٹارٹ اپس کو ڈیزائن سے لے کر کمرشل پروڈکشن تک کے مشکل مرحلے میں شدید مالیاتی مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹریکسن کے اعداد و شمار کے مطابق سالانہ بنیادوں پر فنڈنگ میں نمایاں بہتری آئی ہے لیکن بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے سرمایہ اب بھی ناکافی ہے۔
بھارت میں سیمی کنڈکٹر اور فزیکل آرٹیفیشل انٹیلی جنس (فزیکل اے آئی) کے شعبے میں کام کرنے والے اسٹارٹ اپس کو چپس کے ڈیزائن سے لے کر ان کی باقاعدہ کمرشل پروڈکشن (تجارتی پیداوار) تک کے طویل اور کٹھن سفر میں شدید مالیاتی مشکلات کا سامنا ہے۔ اگرچہ ان جدید تکنیکی اداروں نے سرمایہ کاری حاصل کرنے کی دوڑ میں کچھ پیشرفت ضرور کی ہے، تاہم فنڈنگ کے یہ ذرائع بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ پلانٹس لگانے اور مارکیٹ میں مسابقت کے لیے ناپختہ اور ناکافی تصور کیے جا رہے ہیں۔ مارکیٹ ریسرچ فرم ٹریکسن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، بھارتی سیمی کنڈکٹر اور فزیکل اے آئی کمپنیوں نے سال 2025 کے دوران مجموعی طور پر 44 ڈیلز کے ذریعے 523.3 ملین ڈالر کی خطیر رقم اکٹھی کی۔ یہ اعداد و شمار سال 2024 کے مقابلے میں ایک نمایاں بہتری کو ظاہر کرتے ہیں، جب اسی شعبے کی 48 کمپنیوں نے محض 114.4 ملین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی تھی۔ اس کے علاوہ، اگست 2025 تک کے ابتدائی مہینوں میں بھی مزید 26 ڈیلز کے ذریعے 193.3 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی گئی ہے، جو اس سیکٹر کی طرف سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے باوجود، ماہرین کا کہنا ہے کہ سیمی کنڈکٹر کی صنعت انتہائی سرمایہ طلب (capital-intensive) ہوتی ہے، جہاں فابیکیشن یونٹس (Fabs) اور ایڈوانسڈ ٹیسٹنگ لیبز کے قیام کے لیے اربوں ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے۔ محض چند سو ملین ڈالر کا یہ سرمایاتی اضافہ اسٹارٹ اپس کو صرف ابتدائی ڈیزائن اور پروٹو ٹائپنگ کے مرحلے تک ہی محدود رکھتا ہے۔ جب بات ان ڈیزائنز کو کمرشل پیمانے پر ڈھالنے اور گلوبل سپلائی چین کا حصہ بننے کی آتی ہے، تو نجی سرمایہ کاروں کی طرف سے ہچکچاہٹ اور حکومتی گرانٹس کے حصول میں بیوروکریٹک تاخیر ان کمپنیوں کے لیے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں صنعت کے مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر بھارتی حکومت نے مقامی چپ ڈیزائنرز اور مینوفیکچررز کو براہ راست مالی معاونت، ٹیکس چھوٹ اور عالمی سطح کے انفراسٹرکچر کی فراہمی میں تیزی نہ دکھائی، تو یہ ابھرتے ہوئے اسٹارٹ اپس اپنے خیالات کو عملی شکل دینے سے پہلے ہی مالی بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔ سیمی کنڈکٹر کی عالمی دوڑ میں برتری حاصل کرنے کے لیے بھارت کو محض سرمایہ کاری کے اعداد و شمار بڑھانے کی بجائے، پیداواری صلاحیت کو براہ راست سپورٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔