LIVE
Loading Breaking News...

لیمکا: شمال مشرقی زبانوں کے لیے جدید ترین اے آئی متعارف

News Image
شیلانگ میں قائم تحقیقی ادارے ایم وائر لیبز نے 'لیمکا' نامی ایک جدید سپیچ اے آئی سسٹم لانچ کیا ہے جو شمال مشرقی ہندوستان کی چھ مقامی زبانوں میں کام کرتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی سپیچ ٹو ٹیکسٹ اور ٹیکسٹ ٹو سپیچ کی سہولت فراہم کر کے مقامی زبانوں کی ڈیجیٹل موجودگی کو بڑھائے گی۔
شیلانگ میں قائم ایک سرکردہ ریسرچ اور اے آئی ڈپلومنٹ لیب، ایم وائر لیبز (MWire Labs) نے ایک انتہائی اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے 'لیمکا' (Lemka) نامی جدید ترین سپیچ اے آئی سسٹم متعارف کرایا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر شمال مشرقی ہندوستان کی چھ اہم زبانوں کو ڈیجیٹل سہولیات فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ اس سسٹم میں سپیچ ٹو ٹیکسٹ (Lemka STT) اور ٹیکسٹ ٹو سپیچ (Lemka TTS) کی صلاحیتیں موجود ہیں، جو ان خطوں کے باشندوں کے لیے ٹیکنالوجی کے دروازے کھول رہی ہیں۔ جن زبانوں کے لیے یہ سہولت فراہم کی گئی ہے ان میں کھاسی، گارو، میزو، میتئی (منی پوری) اور دیگر شامل ہیں۔ یہ پیش رفت مقامی زبانوں کے بولنے والوں کے لیے مواصلات اور ڈیجیٹل مواد تک رسائی کو آسان بنائے گی۔ اس پروجیکٹ کا بنیادی مقصد خطے کی ان زبانوں کو ٹیکنالوجی کی مدد سے محفوظ بنانا اور انہیں جدید ڈیجیٹل دور کے ہم آہنگ کرنا ہے۔ ایم وائر لیبز کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سی مقامی زبانیں اے آئی ٹولز کی کمی کی وجہ سے ڈیجیٹل دنیا میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ لیمکا کے ذریعے اب ان زبانوں کے بولنے والے بھی اپنی مادری زبان میں اے آئی ٹیکنالوجی سے استفادہ کر سکیں گے۔ یہ سسٹم نہ صرف آواز کو تحریر میں تبدیل کر سکتا ہے بلکہ تحریری مواد کو قدرتی لہجے میں آواز میں بھی بدل سکتا ہے، جس سے تعلیم، صحت اور عوامی خدمات کے شعبوں میں انقلاب آنے کی امید ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے اجراء سے شمال مشرقی ہندوستان کی ثقافتی اور لسانی تنوع کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔ ایم وائر لیبز کا دعویٰ ہے کہ یہ اینڈ ٹو اینڈ سسٹم انتہائی درستگی کے ساتھ کام کرتا ہے اور آنے والے وقتوں میں اس میں مزید زبانوں کو شامل کرنے کا بھی ارادہ ہے۔ ماہرین اسے مقامی زبانوں کے تحفظ کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ جیسے جیسے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی دنیا وسعت اختیار کر رہی ہے، لیمکا جیسے مقامی پروجیکٹس یہ ثابت کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے لسانی رکاوٹوں کو ختم کیا جا سکتا ہے اور علاقائی زبانوں کو بھی مرکزی دھارے کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لایا جا سکتا ہے۔