LIVE
Loading Breaking News...

مولوی عبدالحق کی برسی اور وفاقی اردو یونیورسٹی کے معاملات پر اہم مطالبات

News Image
بابائے اردو مولوی عبدالحق کی برسی پر ان کی علمی اور ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اس موقع پر انجمن ترقی اردو کی جانب سے وفاقی اردو یونیورسٹی کا کنٹرول دوبارہ انجمن کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان میں اردو زبان کے فروغ اور تحفظ کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دینے والے معروف محقق اور ماہرِ لسانیات بابائے اردو مولوی عبدالحق کی برسی انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر ملک بھر میں علمی و ادبی تقریبات کا انعقاد کیا گیا جس میں ان کی اردو زبان و ادب کے لیے دی گئی لازوال خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولوی عبدالحق نے نہ صرف اردو زبان کو ایک شناخت فراہم کی بلکہ برصغیر میں تعلیمی اداروں کا ایک ایسا جال بچھایا جس نے اردو کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ اس تقریب کے دوران انجمن ترقیِ اردو کے عہدیداران نے حکومت سے ایک اہم مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی برائے آرٹس، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا کنٹرول فوری طور پر انجمن ترقیِ اردو کے سپرد کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس مقصد کے تحت اس یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی تھی، اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے انجمن کا کردار ناگزیر ہے۔ مقررین نے تشویش کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی میں انگریزی زبان کا بڑھتا ہوا غلبہ اور تدریسی عمل میں تبدیلی اس کے بانی کے وژن اور اس کے قیام کے بنیادی مقاصد کی نفی کرتی ہے۔ مزید برآں، انجمن کے رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کا اصل مقصد اردو کو ذریعہ تعلیم بنانا اور اسے اعلیٰ ترین سائنسی و تکنیکی سطح تک پہنچانا تھا، لیکن موجودہ حالات میں یہ ادارہ اپنی پہچان کھو رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کو اس کے اصل تعلیمی فلسفے کے مطابق چلایا جائے تاکہ بابائے اردو کے خوابوں کی تعبیر ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس ادارے کی باگ ڈور انجمن کے حوالے کی جاتی ہے تو یہ زبان کی ترویج اور معیارِ تعلیم میں بہتری لانے کا ایک موثر ذریعہ ثابت ہوگا۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء نے عہد کیا کہ بابائے اردو کے مشن کو ہر صورت جاری رکھا جائے گا اور اردو زبان کو دفتری اور تعلیمی سطح پر اس کا جائز مقام دلوانے کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ مولوی عبدالحق کی خدمات صرف کتابوں تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک تحریک کا نام ہیں، جس کا مقصد قوم کو اپنی زبان اور ثقافت پر فخر کرنا سکھانا تھا۔ یہ برسی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اپنی قومی زبان کی حفاظت کے بغیر کسی بھی قوم کا علمی و فکری سفر نامکمل رہتا ہے۔