Business
سونے کی قیمت میں تیزی: عالمی مارکیٹ کا تازہ ترین رجحان
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ امریکی فیڈرل ریزرو کے منٹس اور تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلی ہے۔ سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکی افراطِ زر کے اعداد و شمار پر مرکوز ہیں جو شرح سود کے مستقبل کا تعین کریں گے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں سونے کی قدر میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے بعد سونے کی قیمتیں 4400 ڈالر کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ عالمی ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں یہ تیزی بنیادی طور پر امریکی فیڈرل ریزرو کے حالیہ جاری کردہ منٹس اور عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کے باعث دیکھی جا رہی ہے۔ سرمایہ کار اس وقت انتہائی محتاط ہیں کیونکہ امریکی مانیٹری پالیسی کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جو سونے کی مانگ میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔
ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ امریکی ڈالر کی قدر میں نسبتاً کمزوری اور افراطِ زر (inflation) کے حوالے سے متوقع اعداد و شمار نے سونے کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر مزید پرکشش بنا دیا ہے۔ فیڈرل ریزرو کے حکام کی جانب سے شرح سود کے حوالے سے محتاط اشاروں کے بعد مارکیٹ میں یہ قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں کہ ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔ اس رجحان نے عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں کو دس ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جبکہ سرمایہ کار اب امریکی معاشی ڈیٹا کے منتظر ہیں۔
دوسری جانب، مشرق وسطیٰ اور دیگر عالمی خطوں میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں نے عالمی معاشی خدشات کو جنم دیا ہے، جس کا براہ راست اثر سونے کی منڈی پر پڑ رہا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ افراطِ زر کے دباؤ کو بڑھاتا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے فیڈرل ریزرو کی حکمت عملی پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں، سونے کو ایک ایسی دھات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو نہ صرف سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتحال میں قدر برقرار رکھتی ہے بلکہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک بہترین سہارا بھی ثابت ہوتی ہے۔
آئندہ چند روز میں سامنے آنے والے امریکی افراطِ زر کے ڈیٹا کو سونے کی قیمتوں کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر افراطِ زر کی شرح توقع سے زیادہ رہتی ہے تو یہ سونے کی قیمتوں میں مزید تیزی کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ مارکیٹیں شرح سود کے حوالے سے اپنی توقعات کو دوبارہ ترتیب دیں گی۔ مجموعی طور پر، عالمی معاشی منظرنامہ اس وقت سونے کے حامی دکھائی دیتا ہے اور سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد اپنے پورٹ فولیو میں سونے کے تناسب کو بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔