World
مغربی کنارے میں اسرائیلی پیش قدمی: غیر قانونی چوکیوں کا قیام اور عالمی تشویش
اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں خیمے لگا کر نئی غیر قانونی چوکی قائم کرنے کا عمل جاری ہے۔ اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسیسکا البانیز نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل آباد کاروں کو نسلی صفائی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں اسرائیلی آباد کاروں نے زمینوں پر قبضہ کرتے ہوئے نئی غیر قانونی چوکی قائم کرنے کے لیے خیمے نصب کر دیے ہیں۔ مقامی ذرائع اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کا مقصد فلسطینیوں کی زمینوں پر مستقل تسلط قائم کرنا اور مقامی آبادی کو ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کرنا ہے۔ یہ نئی چوکی ایسے وقت میں قائم کی گئی ہے جب پہلے ہی مقبوضہ علاقوں میں آباد کاروں کی جانب سے تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اس صورتحال پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق فرانسیسکا البانیز نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل منظم طریقے سے آباد کاروں کو ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ مغربی کنارے میں 'نسلی صفائی' کے مذموم مقاصد کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ البانیز کا ماننا ہے کہ آباد کاروں کی یہ سرگرمیاں محض زمین کا تنازع نہیں بلکہ ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا ہدف فلسطینیوں کو ان کے علاقوں سے محروم کر کے وہاں اسرائیلی بستیاں بسانا ہے۔
عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل کے ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان غیر قانونی بستیوں کے پھیلاؤ کو روکا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیلی حکومت نے آباد کاروں کی پشت پناہی جاری رکھی تو یہ خطے میں قیامِ امن کی کوششوں کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دے گا۔ مغربی کنارے میں آباد کاروں کی جانب سے قائم کی جانے والی یہ چوکیاں اکثر بعد ازاں مکمل کالونیوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں، جس سے فلسطینیوں کی آزادانہ نقل و حرکت محدود ہو جاتی ہے اور ان کے معاشی ذرائع تباہ ہو جاتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے حکام بارہا یہ تنبیہ کر چکے ہیں کہ غیر قانونی بستیوں کا قیام دو ریاستی حل کے تصور کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ فلسطین کی جانب سے بھی عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ ان غیر قانونی اقدامات کو بند کرے۔ تاہم، زمین پر زمینی حقائق انتہائی تشویشناک ہیں اور آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی جارحیت مقامی فلسطینیوں کی زندگیوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے خاموشی ان غیر قانونی اقدامات کی حوصلہ افزائی کا باعث بن رہی ہے۔