World
امریکا: آئی سی ای کا الیکٹرک شاک دینے والے دستانے خریدنے کا متنازع منصوبہ
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کو الیکٹرک شاک دینے والے دستانے فراہم کرنے کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔ اس اقدام پر امیگریشن کے ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ایک ظالمانہ فیصلہ قرار دیا ہے۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے اہلکاروں کے لیے ایک انتہائی متنازع منصوبہ سامنے آیا ہے جس نے امیگریشن کے ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی 20 ملین ڈالر کی بھاری رقم خرچ کر کے اپنے ایجنٹس کو ایسے خصوصی دستانے فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو انسانی جسم کو بجلی کا جھٹکا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد حراست میں لیے گئے افراد پر قابو پانا بتایا گیا ہے، تاہم ماہرین اسے 'ظالمانہ' اور انسانیت سوز قرار دے رہے ہیں۔
اس منصوبے کے بارے میں انکشاف اس وقت ہوا جب قانون نافذ کرنے والے ایک افسر کی جانب سے اس 'شیطانی' ارادے کا اعتراف سامنے آیا۔ اس انکشاف کے بعد امیگریشن وکلاء اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے آلات کا استعمال حراست میں لیے گئے افراد کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس سے تشدد کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ناقدین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے امیگریشن کے عمل کو مزید پرتشدد اور غیر انسانی بنایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی امیگریشن سسٹمز پر پہلے ہی کئی محاذوں پر تنقید کی جاتی رہی ہے، لیکن برقی جھٹکے دینے والے دستانوں کی خریداری کے فیصلے نے اس بحث کو ایک نئی جہت دی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس منصوبے کو فوری طور پر ترک کرے کیونکہ اس سے حراست میں لیے گئے افراد کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے اس پر باضابطہ وضاحت کا انتظار کیا جا رہا ہے، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ یہ آلات صرف انتہائی حالات میں حفاظت کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
بہرحال، اس اقدام نے عالمی سطح پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ کیا ایک مہذب معاشرے میں امیگریشن کے معاملات کو حل کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے نام پر تشدد کے جدید طریقے اپنانا درست ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو اس کے نتیجے میں قانونی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ عوامی احتجاج بھی دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ فی الحال یہ معاملہ امریکی سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک گرما گرم بحث کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں کئی تنظیمیں اس اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے پر بھی غور کر رہی ہیں۔