Technology
مصنوعی ذہانت پر عالمی جنگ: امریکہ اور چین کا ٹیکنالوجی ٹکراؤ
امریکہ نے دیگر ممالک پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی ترقی میں چین کا ساتھ دینے کے بجائے امریکی اتحاد کا انتخاب کریں۔ اس اقدام کا مقصد چین کو جدید ترین ٹیکنالوجی اور وسائل تک رسائی سے محروم کرکے اسے عالمی مقابلوں میں کمزور کرنا ہے۔
امریکہ نے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں جاری عالمی دوڑ کے دوران دنیا بھر کے ممالک پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے کہ وہ چین اور امریکہ میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت نہ صرف معاشی طاقت کا ذریعہ ہے بلکہ یہ مستقبل میں فوجی غلبے کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی تناظر میں، واشنگٹن نے اتحادی ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ اگر انہوں نے چین کے ساتھ ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون جاری رکھا تو انہیں سخت سفارتی اور اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد چین کو جدید ترین چپ سازی اور اے آئی کے پیچیدہ الگورتھمز تک رسائی سے محروم کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکہ اس کوشش میں ہے کہ وہ چین کے وسائل کو محدود کرے تاکہ وہ فوجی اور اقتصادی میدان میں خود کو ناقابل تسخیر نہ بنا سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے امریکہ نہ صرف اپنی کمپنیاں بلکہ دیگر ممالک پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ چینی ٹیکنالوجی فرموں کے ساتھ کام کرنے سے گریز کریں۔ یہ صورتحال دنیا کو ٹیکنالوجی کے لحاظ سے دو بڑے بلاکس میں تقسیم کرنے کا باعث بن رہی ہے، جس کے اثرات عالمی سپلائی چین اور ڈیجیٹل منڈیوں پر نمایاں طور پر مرتب ہو رہے ہیں۔ کئی ممالک اب اس مخمصے کا شکار ہیں کہ وہ کس طرح اپنی قومی ضروریات کے لیے چینی ٹیکنالوجی اور امریکہ کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کے درمیان توازن برقرار رکھیں۔
دوسری جانب چین نے امریکہ کے ان اقدامات کو ٹیکنالوجی کی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ بیجنگ کا موقف ہے کہ امریکہ بین الاقوامی تجارت کے اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور سائنسی ترقی کو روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔ چین نے اپنے مقامی سطح پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تحقیق کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ مغربی پابندیوں کے باوجود خود کو ٹیکنالوجی میں خود کفیل بنا سکے۔ اس عالمی ٹیکنالوجی جنگ نے مستقبل کے سیاسی منظرنامے کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے، جہاں اب قوموں کی طاقت کا اندازہ ان کی فوجی صلاحیت کے ساتھ ساتھ ان کے پاس موجود آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی صلاحیتوں سے لگایا جا رہا ہے۔