LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی فرموں کو اربوں ڈالر کی فنڈنگ: مالیاتی منڈیوں میں تشویش

News Image
انوڈیا کی جانب سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس منصوبوں کے لیے اربوں ڈالر کی مالی معاونت فراہم کرنے کے فیصلے سے مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ بانڈ ٹریڈرز اس غیر روایتی کریڈٹ سہولت کے طویل مدتی اثرات اور ممکنہ خطرات کے حوالے سے فکرمند دکھائی دیتے ہیں۔
دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی انوڈیا کی جانب سے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے مصنوعی ذہانت (AI) کی انفراسٹرکچر کمپنیوں کے لیے تقریباً 70 ارب ڈالر مالیت کے 'ریزیڈول ویلیو' (residual value) کریڈٹ سپورٹ فراہم کرنے کے منصوبے نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد اے آئی سے منسلک تعمیراتی منصوبوں میں درکار خطیر سرمایہ کاری کو یقینی بنانا ہے، تاہم بانڈ ٹریڈرز اور مالیاتی تجزیہ کار اس پیشرفت پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ شیڈو کریڈٹ بیک اسٹاپس، جو کہ روایتی بینکنگ نظام سے باہر کام کرتے ہیں، طویل مدت میں مارکیٹ کے لیے بڑے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، انوڈیا کی جانب سے فراہم کردہ یہ مالیاتی معاونت دراصل اے آئی سے متعلقہ اثاثوں کی قدر کو برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہے، تاکہ قرض دہندگان کو اعتماد دلایا جا سکے کہ اگر منصوبہ ناکام ہوتا ہے تو ان کے اثاثے محفوظ رہیں گے۔ تاہم، وال اسٹریٹ کے مبصرین اسے ایک خطرناک رجحان قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح سے اے آئی کی صنعت میں بے تحاشا سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، یہ ایک ایسا بلبلہ ہو سکتا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ بانڈ مارکیٹ میں اس طرح کے غیر روایتی معاہدوں کا بڑھنا شفافیت پر سوالات اٹھاتا ہے اور مستقبل میں کریڈٹ کے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، انوڈیا کے حامیوں کا موقف ہے کہ اے آئی کے شعبے میں ہونے والی ترقی کے لیے روایتی بینکنگ کے سخت معیارات کافی نہیں ہیں، اس لیے ایسی مالیاتی جدت طرازی ناگزیر ہے۔ لیکن اقتصادی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جب ایک ٹیکنالوجی کمپنی خود اپنے صارفین کے لیے قرضوں کی ضمانت دینے لگے، تو یہ مفادات کے ٹکراؤ اور کارپوریٹ گورننس کے مسائل کو جنم دیتا ہے۔ اگر اے آئی کے ان منصوبوں کی افادیت کم ہوئی تو یہ 70 ارب ڈالر کا بوجھ براہ راست انوڈیا اور اس کے سرمایہ کاروں پر پڑے گا، جس سے اسٹاک مارکیٹ میں شدید گراوٹ کا امکان ہے۔ مستقبل کے حوالے سے سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان شیڈو کریڈٹ معاہدوں کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں۔ اگرچہ اے آئی کی ٹیکنالوجی کو مستقبل کا معمار سمجھا جا رہا ہے، لیکن اس کے مالیاتی پہلوؤں کو جس طرح خفیہ اور پیچیدہ انداز میں سنبھالا جا رہا ہے، وہ سرمایہ کاری کی دنیا میں عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ریگولیٹری ادارے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہیں یا اے آئی کی دوڑ میں یہ مالیاتی تجربات اسی طرح جاری رہتے ہیں۔