LIVE
Loading Breaking News...

اسپیس ایکس اسٹار شپ راکٹ، طاقت اور دوبارہ استعمال کی ٹیکنالوجی

News Image
اسپیس ایکس کا نیا اسٹار شپ راکٹ پرانی اپالو ٹیکنالوجی سے دگنی طاقت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس راکٹ کا بنیادی مقصد خلائی سفر کو سستا بنانا اور استعمال کے فورا بعد دوبارہ پرواز کے قابل بنانا ہے۔
خلائی تحقیقاتی ادارے اسپیس ایکس کا نیا اور طاقتور ترین راکٹ اسٹار شپ دنیا بھر کے سائنسدانوں اور خلائی شائقین کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اس کے 33 طاقتور انجن پرواز کے وقت تقریبا 74,400 کلو نیوٹن کی زبردست طاقت پیدا کرتے ہیں، جو چاند پر انسان کو بھیجنے والے تاریخی سیٹرن وی راکٹ کے مقابلے میں تقریباً دگنی ہے۔ اتنی بڑی طاقت کے باوجود، اس پورے خلائی نظام کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اسے زمین پر واپس اتارتے وقت یوں پکڑا جائے جیسے گرتی ہوئی پنسل کو تھاما جاتا ہے، تاکہ اسے اگلے ہی دن دوبارہ پرواز کے قابل بنایا جا سکے۔ اسپیس ایکس کا اصل جوا اس بات پر ہے کہ پانچ ہزار ٹن وزنی راکٹ کو فضا میں ہی کیچ کرکے دوبارہ استعمال کرنا، ہر بار ایک نیا راکٹ بنانے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سستا اور مؤثر ثابت ہوگا۔ روایتی طور پر خلائی راکٹ ایک بار استعمال ہونے کے بعد سمندر میں گر کر ضائع ہو جاتے تھے، جس سے اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا تھا۔ تاہم، اس پراجیکٹ کے انجینئرنگ کے مسائل اور تکنیکی چیلنجز خام طاقت سے بھی زیادہ اہم ہیں، جن پر ماہرین دن رات کام کر رہے ہیں تاکہ خلا تک رسائی کو عام انسان کے لیے بھی ممکن بنایا جا سکے۔ اس ٹیکنالوجی کی کامیابی سے مستقبل میں مریخ اور دیگر سیاروں پر انسانی بستیوں کے قیام کا خواب حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔ دنیا بھر کی فضائی اور خلائی ایجنسیاں اسپیس ایکس کے اس انوکھے تجربے کو بہت غور سے دیکھ رہی ہیں، کیونکہ اگر یہ نظام مکمل طور پر کامیاب ہو گیا تو خلائی سفر کی تاریخ کا ایک نیا باب رقم ہوگا۔ نجی شعبے کی یہ کاوشیں نہ صرف خلائی معیشت کو بدل دیں گی بلکہ کم خرچ میں زیادہ بار سفر کی سہولت بھی فراہم کریں گی، جو مستقبل کی ٹیکنالوجی کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔