LIVE
Loading Breaking News...

ایکیتی میں طلبہ کا تعلیمی نظام سے انحراف اور بڑھتا ہوا آن لائن فراڈ

News Image
نائجیریا کی ریاست ایکیتی میں طلبہ کا تعلیمی ادارے چھوڑ کر آن لائن فراڈ کی دنیا میں قدم رکھنا ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے پریشان ماؤں نے 'ایا اومو اولوگو ایسوسی ایشن' قائم کر لی ہے۔
نائجیریا کی ریاست ایکیتی، جسے طویل عرصے سے 'لینڈ آف آنر' کے نام سے جانا جاتا ہے اور جو ملک کے بہترین ماہرین تعلیم، پروفیشنلز، اور دانشور پیدا کرنے کے لیے مشہور ہے، آج کل ایک نئے اور تشویشناک سماجی چیلنج کا سامنا کر رہی ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق اس ریاست کے بہت سے طلبہ نے اپنی پڑھائی اور تعلیمی کیریئر کو خیرباد کہہ کر آن لائن فراڈ اور سائبر کرائم کی تاریک دنیا کا رخ کر لیا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف تعلیمی نظام کے لیے ایک خطرہ ہے بلکہ معاشرتی اقدار کی تباہی کا بھی پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔ اس سنگین صورتحال نے والدین بالخصوص ماؤں کو شدید فکرمند کر دیا ہے۔ اپنے بچوں کے مستقبل کو اس تباہ کن راستے سے نکالنے کے لیے، ایکیتی کی پریشان ماؤں نے متحد ہو کر 'ایا اومو اولوگو ایسوسی ایشن' (Iya Omo Ologo Association) نامی ایک تنظیم تشکیل دی ہے۔ اس تنظیم کا بنیادی مقصد اپنے بچوں کو آن لائن جرائم کے نقصانات سے آگاہ کرنا اور انہیں واپس تعلیمی اداروں کی طرف راغب کرنے کے لیے شعور اجاگر کرنا ہے۔ مائیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ وقتی منافع کے حصول کے لیے بچوں کی زندگیاں داؤ پر لگانا ایک قومی سانحہ ہے۔ مقامی مبصرین کا کہنا ہے کہ معاشی مشکلات اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال نے نوجوانوں کو اس شارٹ کٹ کی طرف مائل کیا ہے۔ بہت سے طلبہ فوری دولت کے لالچ میں آ کر اخلاقی اور قانونی حدود پار کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے۔ 'ایا اومو اولوگو ایسوسی ایشن' اب حکومتی اداروں اور اسکولوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ نوجوانوں میں مثبت سوچ کو فروغ دیا جا سکے اور انہیں ٹیکنالوجی کا درست استعمال کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے صرف ماؤں کی کوششیں ہی کافی نہیں ہوں گی، بلکہ معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایکیتی کی حکومت کو بھی روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور سائبر کرائم کے خلاف سخت قوانین کے نفاذ کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان نسل کو مجرمانہ سرگرمیوں سے دور رکھا جا سکے۔ تعلیم کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی نہیں کر سکتی، اور یہ تنظیم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے کہ ریاست کی شناخت دوبارہ سے علم و ادب کی ترویج سے وابستہ ہو۔