LIVE
Loading Breaking News...

ایران میں نایاب پلاس بلی کی ویڈیو منظر عام پر

News Image
ایران کے پہاڑی سلسلوں میں ایک نایاب اور پراسرار جنگلی بلی کی ویڈیو ریکارڈ کی گئی ہے جسے پلاس کیٹ کہا جاتا ہے۔ یہ جانور اپنی چھپنے کی صلاحیت اور نایاب ہونے کی وجہ سے دنیا بھر کے محققین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
شمالی ایران کے ناہموار اور بلند و بالا پہاڑی سلسلوں میں قدرت کا ایک انمول شاہکار اس وقت کیمرے کی آنکھ میں قید ہو گیا جب وہاں ایک انتہائی نایاب اور پراسرار 'پلاس کیٹ' (Pallas's cat) کو دیکھا گیا۔ یہ جنگلی بلی دنیا کے ان چند نایاب ترین جانوروں میں شمار کی جاتی ہے جو انسانوں کی نظروں سے دور رہنے میں ماہر ہیں۔ ماہرینِ حیوانات کے مطابق، پلاس بلی کا یہ مشاہدہ مقامی ماحولیاتی نظام کی بہتری اور تحقیق کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ پلاس بلی، جسے سائنسی زبان میں 'اوٹوکولوبس مینوئل' بھی کہا جاتا ہے، اپنے گھنے بالوں اور منفرد چہرے کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔ یہ جانور عام طور پر وسطی ایشیا کے سرد اور خشک پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے، تاہم ایران کے پہاڑوں میں اس کی موجودگی نے ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ ان کی آبادی کے بارے میں درست اعداد و شمار حاصل کرنا بہت مشکل کام ہے کیونکہ یہ جانور انتہائی خاموش طبع اور چھپ کر شکار کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ فوٹیج میں اس بلی کو پہاڑی چٹانوں پر مہارت سے چلتے ہوئے اور ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ مقامی حکام اور جنگلی حیات کے تحفظ پر کام کرنے والے اداروں نے اس دریافت کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شمالی ایران کے پہاڑی علاقے نہ صرف قدرتی خوبصورتی سے مالا مال ہیں بلکہ یہاں کئی ایسی حیات موجود ہیں جن کے بارے میں ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد اب یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان علاقوں کو محفوظ زون قرار دیا جائے تاکہ اس نایاب نسل کو معدومی سے بچایا جا سکے اور ان کے قدرتی مسکن کو انسانی مداخلت سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ واقعہ دنیا بھر کے جنگلی حیات کے شوقین افراد کے لیے بھی ایک دلچسپ خبر ہے، کیونکہ پلاس بلی کا سامنا کرنا کسی بھی محقق کے لیے ایک خواب جیسا ہوتا ہے۔ مستقبل میں اس طرح کی مزید کیمرہ ٹریپنگ تکنیکوں کے ذریعے ایران کے دور دراز علاقوں میں پائی جانے والی دیگر نایاب انواع کی نشاندہی بھی ممکن ہو سکے گی۔ حکومتی سطح پر اس پروجیکٹ کی کامیابی نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر قدرتی وسائل کی مناسب نگرانی کی جائے تو ہم اپنی زمین کے ان نایاب خزانوں کو نسلِ نو کے لیے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔