Business
اوپل کار کمپنی کی چینی شراکت داری اور ملازمتوں کا بحران
جرمن کار ساز کمپنی اوپل کی جانب سے چینی پارٹنرز کے ساتھ اشتراک اور کمپنی میں چھانٹیوں کے بعد مقامی سطح پر ملازمتوں کے مستقبل کے حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ اسٹیلنٹیز کی جانب سے انجینئرنگ کے سیکڑوں ملازمین کو فارغ کرنے کے فیصلے نے علاقے کے معاشی حالات پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
جرمنی کا تاریخی شہر رسلزہیم، جو دہائیوں سے اوپل کار کمپنی کی وجہ سے عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے، آج کل ایک شدید بے چینی اور غیر یقینی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ اوپل کی پیرنٹ کمپنی 'اسٹیلنٹیز' کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ فیصلوں نے نہ صرف ملازمین بلکہ پورے خطے کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی پیداواری حکمت عملی میں تبدیلی لا رہی ہے اور اس سلسلے میں اب چینی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس اقدام کو کمپنی کی جانب سے عالمی منڈی میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مقامی سطح پر اس کے نتائج تشویشناک سمجھے جا رہے ہیں۔
اسٹیلنٹیز نے رواں سال اپریل میں ایک بڑا دھچکا دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ رسلزہیم میں واقع اپنے ڈویلپمنٹ سینٹر سے تقریباً 650 انجینئرنگ کی اسامیاں ختم کر رہی ہے۔ یہ تعداد وہاں موجود کل 1,650 ملازمین کا ایک بڑا حصہ بنتی ہے، جس سے مقامی ورک فورس میں سراسمیگی پھیل گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ چینی شراکت داری کی طرف جھکاؤ کا مطلب یہ ہے کہ اوپل اب اپنی تحقیق اور ترقی کے شعبوں کو بھی ممکنہ طور پر چین منتقل کر سکتی ہے، جس سے جرمنی میں مقامی مہارت اور روزگار کے مواقع بتدریج کم ہوتے جائیں گے۔
رسلزہیم کے مقامی رہائشیوں اور مزدور یونینز کا کہنا ہے کہ اوپل صرف ایک کمپنی نہیں بلکہ شہر کی شناخت ہے، اور اسے چینی شراکت داروں کے حوالے کرنے سے شہر کا صنعتی وقار مجروح ہوگا۔ یونین رہنماؤں نے کمپنی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شفافیت سے کام لے اور ملازمین کے مستقبل کو تحفظ فراہم کرے۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی آٹوموبائل ٹرینڈز اور برقی گاڑیوں کی مسابقت میں زندہ رہنے کے لیے یہ سخت فیصلے ناگزیر ہیں، لیکن مقامی لوگ اس دلیل سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔
مستقبل کے حوالے سے یہ غیر یقینی صورتحال اب جرمن سیاست کے ایوانوں تک بھی پہنچ چکی ہے۔ کئی مقامی سیاستدانوں نے اوپل کے اس قدم پر تنقید کرتے ہوئے اسے مقامی صنعت پر ایک کاری ضرب قرار دیا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا اسٹیلنٹیز اپنے ان فیصلوں پر نظر ثانی کرتی ہے یا پھر اوپل کی دیرینہ جرمن شناخت دھیرے دھیرے چینی اشتراک کے سائے تلے بدل کر رہ جائے گی۔ شہر کے مکینوں کے لیے یہ لڑائی صرف ملازمتوں کی نہیں بلکہ اپنے آبائی ورثے اور صنعتی بقا کی بھی ہے۔