LIVE
Loading Breaking News...

امریکی فوجی منصوبے میں کروڑوں ڈالرز کا ضیاع، تحقیقات کا مطالبہ

News Image
امریکی فوج کی جانب سے آرٹلری شیل بنانے کے لیے مختص کردہ 533 ملین ڈالر کا منصوبہ ناکامی کا شکار ہو گیا جس میں کوئی ایک بھی گولہ تیار نہیں کیا جا سکا۔ اس منصوبے میں ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر جنرل ڈائنامکس اور غیر تصدیق شدہ ترک ذیلی ٹھیکیدار کو نوازا گیا تھا۔
امریکی دفاعی شعبے میں ایک سنگین بدانتظامی کا انکشاف ہوا ہے جس کے تحت ٹیکس دہندگان کی محنت کی کمائی سے حاصل کردہ 533 ملین ڈالر کی خطیر رقم ایک ایسے آرٹلری پلانٹ پر ضائع کر دی گئی جس نے اپنی پوری مدت میں ایک بھی گولہ تیار نہیں کیا۔ اس منصوبے کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج نے انتہائی عجلت میں اس معاہدے کو حتمی شکل دی، جس کے دوران معمول کے تمام ضوابط اور جانچ پڑتال کے اصولوں کو نظر انداز کیا گیا۔ یہ منصوبہ بنیادی طور پر آرٹلری شیلز کی پیداوار بڑھانے کے لیے شروع کیا گیا تھا، لیکن انتظامی کوتاہیوں نے اسے ایک قومی ناکامی بنا دیا۔ اس منصوبے کے تحت امریکی فوج نے جنرل ڈائنامکس نامی کمپنی کو بھاری ٹھیکہ دیا، جس نے آگے چل کر ایک ایسی ترک ذیلی ٹھیکیدار کمپنی کی خدمات حاصل کیں جن کی ساکھ اور قابلیت کے حوالے سے مناسب جانچ پڑتال نہیں کی گئی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دفاعی منصوبوں میں اس طرح کی عجلت اور شفافیت کا فقدان عوامی پیسوں کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ٹھیکیدار کو بھاری ادائیگیاں کی گئیں لیکن جب پیداواری اہداف کے حصول کا وقت آیا تو پتا چلا کہ نہ تو پلانٹ فعال ہے اور نہ ہی تکنیکی طور پر کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔ یہ صورتحال امریکی محکمہ دفاع کی خریداری کے عمل پر گہرے سوالات اٹھاتی ہے۔ حکام کی جانب سے اس واقعے پر ابھی تک کوئی واضح وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم اس منصوبے کی ناکامی نے کانگریس اور متعلقہ اداروں کی توجہ مبذول کروا دی ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ بغیر کسی جانچ پڑتال کے نجی کمپنیوں کو ٹھیکے دینے کا عمل اب معمول بن چکا ہے جس کا خمیازہ عام امریکی عوام کو ٹیکس کی مد میں ادا کرنا پڑتا ہے۔ مستقبل میں ایسے دفاعی معاہدوں کی سخت نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے تاکہ کروڑوں ڈالرز کے اس طرح کے فضول منصوبوں کا دوبارہ اعادہ نہ ہو سکے۔