Pakistan
آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کا آٹھ مخصوص نشستوں پر انتخابات کا اعلان
آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے اسمبلی کی آٹھ مخصوص نشستوں کے لیے پولنگ کی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ انتخابات 24 اگست کو منعقد کیے جائیں گے جس کے لیے سیاسی جماعتوں کی تیاریاں عروج پر ہیں۔
آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے طویل انتظار کے بعد اسمبلی کی آٹھ مخصوص نشستوں پر انتخابات کے شیڈول کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ جاری کردہ شیڈول کے مطابق ان نشستوں پر پولنگ کا عمل 24 اگست کو منعقد ہوگا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور تمام بڑی سیاسی جماعتیں اپنی حکمت عملی ترتیب دینے میں مصروف ہیں۔ الیکشن کمیشن حکام کے مطابق انتخابات کو شفاف اور پرامن بنانے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال بلا خوف و خطر کر سکیں۔
موجودہ سیاسی منظر نامے میں ان مخصوص نشستوں کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ خاص طور پر باغ کے حلقوں میں حال ہی میں ہونے والی ری پولنگ کے نتائج کے بعد مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ مسلم لیگ ن ان نشستوں کے حصول کے ذریعے اسمبلی میں اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی بھی اپنے مضبوط امیدواروں کے ساتھ میدان میں موجود ہے۔ ان نشستوں کے نتائج حکومت سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کریں گے، یہی وجہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کی نظریں اب 24 اگست کے روز پر جمی ہیں۔
الیکشن کمیشن نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کرائیں۔ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی مہم کے دوران اخلاقی اقدار کا خیال رکھیں اور الیکشن کمیشن کے مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر اپنی مہم چلائیں۔ باغ کے دو حلقوں میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کے بعد انتخابی ماحول خاصا گرم ہے اور سیاسی تجزیہ کار اسے آنے والی حکومت سازی کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔
آخر میں، عوام نے بھی ان انتخابات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ 24 اگست کو ہونے والی پولنگ آزاد کشمیر کی سیاسی سمت کا تعین کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہوگی۔ الیکشن کمیشن نے پرعزم ہے کہ وہ مقررہ وقت پر پرامن اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے گا تاکہ عوام کا مینڈیٹ درست طریقے سے سامنے آ سکے۔ تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لیے رابطے تیز کر چکے ہیں اور انتخابی گہما گہمی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔