Technology
اینڈرائیڈ اسمارٹ فون اور اینٹی وائرس کا استعمال: کیا یہ ضروری ہے؟
موجودہ دور میں اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز میں بلٹ ان سکیورٹی فیچرز اتنے جدید ہو چکے ہیں کہ الگ سے اینٹی وائرس کی ضرورت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ ایپس کو آفیشل اسٹور سے ڈاؤن لوڈ کرنا اور سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ رکھنا سیکیورٹی کے لیے کافی ہے۔
آج کل کے جدید اسمارٹ فون دور میں صارفین کے ذہنوں میں اکثر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہیں اپنے اینڈرائیڈ ڈیوائس پر کسی تھرڈ پارٹی اینٹی وائرس ایپ کو انسٹال کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گوگل نے اپنے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کو برسوں کے دوران کافی محفوظ بنا دیا ہے۔ گوگل پلے پروٹیکٹ (Google Play Protect) نامی فیچر ہر اینڈرائیڈ فون کا حصہ ہے جو پس پردہ رہتے ہوئے ایپس کی مستقل نگرانی کرتا ہے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی یا نقصان دہ فائل کی نشاندہی پر اسے فوراً بلاک کر دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اینڈرائیڈ کے لیے اینٹی وائرس ایپس کا دور تقریباً گزر چکا ہے۔ زیادہ تر اینٹی وائرس ایپس جو پلے اسٹور پر موجود ہیں، وہ آپ کے فون کی بیٹری اور میموری کا غیر ضروری استعمال کرتی ہیں جبکہ سیکیورٹی کے نام پر صرف بنیادی فیچرز ہی فراہم کرتی ہیں۔ اگر آپ اپنے اسمارٹ فون کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو سب سے اہم اصول یہ ہے کہ ایپس کو ہمیشہ گوگل پلے اسٹور جیسے مستند ذرائع سے ہی ڈاؤن لوڈ کریں۔ پلے اسٹور پر موجود 'پلے پروٹیکٹ' کا نظام خودکار طریقے سے آپ کی انسٹال شدہ ایپس کو اسکین کرتا ہے، لہذا کسی الگ اینٹی وائرس کی موجودگی اس عمل میں کوئی خاص اضافہ نہیں کرتی۔
اس کے علاوہ، اپنے فون کے آپریٹنگ سسٹم اور ایپس کو ہمیشہ اپ ڈیٹ رکھنا سیکیورٹی کے لیے سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ سسٹم اپ ڈیٹس میں سیکیورٹی پیچز (security patches) شامل ہوتے ہیں جو ہیکرز کی جانب سے بنائے گئے نئے خطرات کو ختم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، نامعلوم لنکس پر کلک کرنے سے گریز کرنا، نامعلوم ویب سائٹس سے اے پی کے (APK) فائلز ڈاؤن لوڈ نہ کرنا اور ایپس کو غیر ضروری پرمیشنز دینے سے بچنا ایک صارف کو کسی بھی اینٹی وائرس سے زیادہ بہتر تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ اگر آپ محتاط صارف ہیں اور اپنے فون کو بروقت اپ ڈیٹ رکھتے ہیں، تو آپ کو اضافی سیکیورٹی سافٹ ویئر پر وقت اور پیسہ ضائع کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ اینڈرائیڈ کا اندرونی سیکیورٹی نظام آج کے دور میں تقریباً ہر قسم کے میلویئر اور وائرس کے خلاف لڑنے کے لیے کافی حد تک خود مختار اور مضبوط ہے۔