LIVE
Loading Breaking News...

مغربی کنارے میں فلسطینی خاندان کا گھر اسرائیلی آبادکاروں کے محاصرے میں

News Image
فلسطینی نژاد امریکی شہری لوئی ریدی امریکہ سے مغربی کنارے کے گاؤں قصرا پہنچ رہے ہیں جہاں ان کا آبائی گھر اسرائیلی آبادکاروں کے محاصرے میں ہے۔ یہ پیش رفت فلسطینی خاندانوں کی جانب سے اپنی زمینوں اور گھروں کے تحفظ کے لیے کی جانے والی جدوجہد کا حصہ ہے۔
امریکہ میں مقیم فلسطینی نژاد شہری لوئی ریدی نے مغربی کنارے کے گاؤں قصرا میں واقع اپنے خاندانی گھر کو بچانے کے لیے ایک طویل سفر کا آغاز کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، یہ گھر اس وقت اسرائیلی آبادکاروں کے شدید دباؤ اور محاصرے کی زد میں ہے، جس کی وجہ سے خاندان کے افراد شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ لوئی ریدی کا یہ سفر محض ایک ذاتی دورہ نہیں بلکہ اپنی آبائی زمین اور جائیداد کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ایک جرات مندانہ قدم ہے، جہاں انہیں مسلسل بے دخلی کے خطرات کا سامنا ہے۔ قصرا کا علاقہ طویل عرصے سے اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے زمینوں پر قبضے اور تعمیرات کے تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ مقامی فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ آباد کاروں کی جانب سے گھروں کو گھیرنے کا مقصد انہیں یہاں سے نقل مکانی پر مجبور کرنا ہے تاکہ ان علاقوں میں یہودی بستیوں کی توسیع کی جا سکے۔ لوئی ریدی کا آبائی گھر اب ایسی صورتحال کا شکار ہے جہاں باہر نکلنا یا کسی قسم کی تعمیراتی سرگرمی کرنا بھی ناممکن بنا دیا گیا ہے، جس سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل خبردار کرتی رہی ہیں کہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کی جانب سے اس طرح کے محاصرے فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی کو اجیرن بنا رہے ہیں۔ لوئی ریدی، جو کہ امریکی شہریت کے حامل ہیں، اپنے گھر پہنچ کر نہ صرف اپنے خاندان کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں بلکہ عالمی برادری کی توجہ بھی اس مسئلے کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ یہ واقعہ اس وسیع تر کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے جو مقبوضہ علاقوں میں مقامی آبادی اور آباد کاروں کے درمیان روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ لوئی ریدی کے پہنچنے کے بعد صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی، تاہم مقامی سطح پر کشیدگی میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔ ان کے خاندان کا مطالبہ ہے کہ بین الاقوامی حکام اس معاملے میں مداخلت کریں تاکہ انہیں ان کے آبائی گھر سے محروم ہونے سے بچایا جا سکے۔ یہ معاملہ اب نہ صرف مقامی بلکہ ایک بین الاقوامی سفارتی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے جس پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔