LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی اتحاد پر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے دفاعی معاہدے کو خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک جرات مندانہ اور اہم قدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے ان تینوں ممالک کی قیادت کو اس تاریخی تعاون پر مبارکباد پیش کی ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک کے ڈیوڈ ایس میک سینٹر میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین طے پانے والے نئے دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے اس پیش رفت کو ایک جرات مندانہ اور اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ نہ صرف ان ممالک کے لیے بلکہ پورے خطے کے دفاعی توازن اور سیکیورٹی کی صورتحال میں ایک نئی روح پھونکنے کا باعث بنے گا۔ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اتحاد خطے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس دفاعی معاہدے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے ممالک اب اپنے دفاعی معاملات میں زیادہ خود مختار اور باہمی تعاون پر مبنی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تینوں ممالک کا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل میں علاقائی تنازعات کو حل کرنے کے لیے مشترکہ عسکری و سفارتی کوششیں زیادہ کارگر ثابت ہوں گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اتحاد خطے میں طویل المیعاد استحکام لانے میں کامیاب رہے گا۔ واضح رہے کہ یہ دفاعی معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر سیاسی اتحاد بدل رہے ہیں اور ممالک اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے نئے شراکت دار تلاش کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا یہ اشتراک نہ صرف عسکری تربیت اور ٹیکنالوجی کے تبادلے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ اس سے تینوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کو بھی فروغ ملے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان اس معاہدے کی عالمی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جس سے عالمی سفارتی حلقوں میں بھی کافی دلچسپی لی جا رہی ہے۔ اس معاہدے کے تحت ان ممالک کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ، مشترکہ فوجی مشقیں اور دفاعی سازوسامان کی تیاری میں تعاون شامل ہونے کا امکان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معاون ہوگا بلکہ علاقائی تجارتی راستوں کی حفاظت کے لیے بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ ٹرمپ کی جانب سے ملنے والی اس حمایت کے بعد، سفارتی حلقوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ یہ معاہدہ آنے والے دنوں میں مزید وسعت اختیار کرے گا جس سے مسلم ممالک کے درمیان دفاعی یکجہتی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکے گا۔