World
حج 2027: سعودی عرب کے نئے رہائشی قوانین اور تفصیلات
سعودی حکومت نے حج 2027 کے لیے عازمین کی رہائش کے حوالے سے نئے اور سخت ضوابط جاری کیے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد حجاج کرام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کو مزید جدید اور محفوظ بنانا ہے۔
سعودی عرب کی حکومت نے حج 2027 کی تیاریوں کے سلسلے میں عازمینِ حج کے لیے رہائش کے نئے اور جدید ضوابط جاری کر دیے ہیں۔ ان نئے قوانین کا بنیادی مقصد مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں حجاج کرام کو فراہم کی جانے والی رہائشی سہولیات کے معیار کو عالمی سطح کے مطابق بنانا ہے۔ سعودی وزارتِ حج و عمرہ کے حکام کے مطابق، آنے والے برسوں میں حجاج کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے رہائشی عمارتوں کے لیے حفاظتی معیارات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مزید بہتری لائی جائے گی۔ نئے ضوابط میں عمارتوں کی گنجائش، آگ سے بچاؤ کے جدید نظام، اور حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حج 2027 کے لیے رہائش کا عمل اب مکمل طور پر ڈیجیٹل نگرانی میں ہوگا۔ رہائش فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے یہ لازمی ہوگا کہ وہ تمام عمارتوں کا ڈیٹا وزارت کے مرکزی سسٹم میں اپ ڈیٹ کریں تاکہ عازمین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔ خاص طور پر منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کے علاوہ مکہ میں رہائش پذیر عازمین کے لیے کمروں کی تعداد، وینٹیلیشن، اور ایئر کنڈیشننگ کے حوالے سے نئے تکنیکی معیارات طے کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ حجاج کرام کو گرمی اور ہجوم کے دوران کسی بھی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ ہو اور انہیں ایک پرسکون ماحول فراہم کیا جا سکے۔
مزید برآں، سعودی حکومت نے رہائشی عمارتوں کی درجہ بندی کا عمل بھی مزید سخت کر دیا ہے تاکہ خدمات کا معیار یقینی بنایا جا سکے۔ کسی بھی عمارت کو تب تک منظور نہیں کیا جائے گا جب تک وہ حفاظتی جانچ کے تمام مراحل سے کامیابی سے نہ گزر جائے۔ ان نئے قوانین پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ اداروں کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں، اور خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ سعودی عرب کا ویژن 2030 کے تحت یہ اقدام حج کے تجربے کو مزید آسان، محفوظ اور یادگار بنانے کی ایک کڑی ہے، جس سے دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں زائرین کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔