World
جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ: عالمی جنگ اور انسانی بقا کا بحران
ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے جوہری دھمکیوں کے تناظر میں عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ جوہری ہتھیاروں کا مکمل خاتمہ ہی انسانیت کو ایک بڑی تباہی اور کروڑوں اموات سے بچانے کا واحد راستہ ہے۔
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بالخصوص روس کی جانب سے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کے خلاف جوہری حملوں کی دھمکیوں نے دنیا کو ایک ایسی نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں جوہری جنگ کا خطرہ حقیقت بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ نامور امریکی ماہرینِ اسلحہ اور بین الاقوامی تعلقات کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی صورتحال میں جوہری ہتھیاروں کا تیزی سے خاتمہ نہ صرف ایک اخلاقی ضرورت ہے بلکہ یہ انسانی تہذیب کی بقا کے لیے بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کو برقرار رکھا گیا تو کسی بھی غلط فہمی یا اشتعال کے نتیجے میں ہونے والی جوہری جنگ اربوں انسانوں کی ہلاکت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ ایک ایسا تباہ کن عمل ہے جس نے عالمی سلامتی کو ایک دائمی خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ جوہری ذخائر میں کمی لائی جائے گی، تاہم حالیہ برسوں میں بڑی طاقتوں کے مابین بڑھتی ہوئی مسابقت نے دوبارہ جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو تیز کر دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ 'ڈومز ڈے' یا قیامت خیز جنگ کو ٹالنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جوہری ہتھیاروں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے عالمی سطح پر ایک شفاف اور غیر مشروط معاہدہ کیا جائے۔ ان کے مطابق جوہری ہتھیاروں کا ہونا ہی خود ایک ایسا خطرہ ہے جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔
اس سنگین صورتحال کے پیش نظر، عالمی برادری اور بین الاقوامی تنظیموں کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی ضرورت ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف زبانی کلامی وعدوں سے کام نہیں چلے گا بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایٹمی طاقتوں کو اپنے ہتھیاروں کے ذخائر کو محدود کرنے کے بجائے انہیں تلف کرنے کے عمل کو تیز کرنا ہوگا۔ اگر انسانیت کو اس تباہی سے محفوظ رکھنا ہے جو ایٹمی تابکاری اور جوہری دھماکوں کے نتیجے میں جنم لے سکتی ہے، تو عالمی رہنماؤں کو سیاست سے بالاتر ہو کر مشترکہ مفادات اور بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر، تاریخ کے صفحات میں یہ دور انسانی غلطیوں کا سب سے تاریک باب ثابت ہو سکتا ہے۔