Technology
بھارت کی خلائی ٹیکنالوجی انڈسٹری میں تیزی: 440 سٹارٹ اپس کا قیام
ڈی پی آئی آئی ٹی سٹارٹ اپ انڈیا پورٹل کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور رجسٹرڈ سٹارٹ اپس کی تعداد 440 ہوگئی ہے۔ انڈین نیشنل سپیس پروموشن اینڈ اتھرائزیشن سینٹر اب تک 113 کمپنیوں کو خلائی سرگرمیوں کے لیے باقاعدہ اجازت نامے جاری کر چکا ہے۔
بھارت کی خلائی ٹیکنالوجی کی صنعت میں ایک نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے تحت ملک میں رجسٹرڈ خلائی سٹارٹ اپس کی تعداد 440 تک پہنچ گئی ہے۔ ڈی پی آئی آئی ٹی (DPIIT) سٹارٹ اپ انڈیا پورٹل کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ نجی شعبے کی جانب سے خلائی تحقیق اور ٹیکنالوجی میں دلچسپی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے پالیسیوں میں نرمی اور نجی کمپنیوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کے بعد سے اس شعبے میں سرمایہ کاری اور جدت طرازی کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔ انڈین نیشنل سپیس پروموشن اینڈ اتھرائزیشن سینٹر، جسے مختصراً IN-SPACe کہا جاتا ہے، اس پورے عمل میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اب تک، اس ادارے کی جانب سے 113 مختلف سٹارٹ اپس اور کمپنیوں کو خلائی سرگرمیوں کے لیے باقاعدہ اجازت نامے جاری کیے جا چکے ہیں۔ یہ اجازت نامے خلائی ٹیکنالوجی سے وابستہ کمپنیوں کو سیٹلائٹ لانچنگ، ڈیٹا انالٹکس، اور خلائی آلات کی تیاری جیسے اہم منصوبوں پر کام کرنے کا قانونی اختیار فراہم کرتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ خلائی شعبے میں نجی کمپنیوں کی شمولیت سے نہ صرف ملکی معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی خلائی ٹیکنالوجی کی مارکیٹ میں پوزیشن بھی مستحکم ہوگی۔ یہ سٹارٹ اپس اب جدید ٹیکنالوجیز جیسے کہ نینو سیٹلائٹس، لانچ وہیکلز اور سپیس ڈریسنگ جیسی جدید ایپلی کیشنز پر تحقیق کر رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ آنے والے برسوں میں خلائی معیشت میں نجی شعبے کا حصہ مزید بڑھے گا۔ IN-SPACe کی جانب سے فراہم کی جانے والی معاونت، بشمول تجرباتی سہولیات اور تکنیکی مشاورت، ان چھوٹے سٹارٹ اپس کے لیے ایک محرک ثابت ہو رہی ہے۔ اس تیزی سے بڑھتے ہوئے ایکو سسٹم کے نتیجے میں بھارت نہ صرف اپنے خلائی پروگراموں کو وسعت دے رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں ایک ایسے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے جہاں خلائی ٹیکنالوجی سے متعلق نئے خیالات اور جدید حل تیار کیے جا رہے ہیں۔