LIVE
Loading Breaking News...

اسپیس شپ ارتھ میں تبدیلی: ڈزنی کی جانب سے بڑا اعلان

News Image
والٹ ڈزنی ورلڈ نے 43 برسوں سے قائم اپنے مقبول ترین پرکشش مقام اسپیس شپ ارتھ کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا اعلان ڈی 23 ایونٹ میں کیا گیا جس کا مقصد کلاسک تجربات کو نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
والٹ ڈزنی ورلڈ نے حال ہی میں منعقد ہونے والے ڈی 23 ایونٹ کے دوران ایک انتہائی اہم اور تاریخی اعلان کیا ہے جس نے دنیا بھر کے ڈزنی کے مداحوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ڈزنی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ 43 سال سے قائم 'اسپیس شپ ارتھ' نامی پرکشش مقام کو مکمل طور پر جدید تقاضوں کے مطابق تبدیل کیا جائے گا۔ یہ مقام گزشتہ چار دہائیوں سے ای بکاٹ (EPCOT) پارک کی پہچان بنا ہوا ہے اور اب اسے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ نئے انداز میں پیش کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ڈزنی کی جانب سے یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ کمپنی اب اپنے کلاسک اور تاریخی پرکشش مقامات کو جدید دور کے مطابق ڈھالنے پر خاص توجہ دے رہی ہے۔ کمپنی کے ترجمان کے مطابق، اس تبدیلی کے عمل میں نہ صرف ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ کیا جائے گا بلکہ کہانیوں کے انداز اور پیشکش کے طریقہ کار میں بھی نمایاں تبدیلیاں لائی جائیں گی۔ اگرچہ 'اسپیس شپ ارتھ' ایک ناقابلِ تسخیر مقام سمجھا جاتا تھا، لیکن ڈزنی کی حکمت عملی اب ایسے پرانے پروجیکٹس میں نئی روح پھونکنے کی ہے۔ اس منصوبے کے تحت اسپیس شپ ارتھ کے اندر موجود مختلف مناظر کو تبدیل کیا جائے گا تاکہ مہمانوں کو ایک منفرد اور جدید تجربہ فراہم کیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈزنی کا یہ فیصلہ اس کے کاروباری ماڈل میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے، جس میں اب روایتی تھیم پارکس کو جدید انٹرایکٹو ٹیکنالوجی سے لیس کیا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی صرف ظاہری نہیں ہوگی بلکہ اس کے مواد اور پس منظر میں بھی بہت کچھ نیا دیکھنے کو ملے گا۔ مداحوں اور صنعت کے تجزیہ کاروں کی جانب سے اس اعلان پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف پرانے مداح اپنی یادوں سے جڑی تبدیلیوں پر فکرمند ہیں، وہیں دوسری طرف نئی نسل کے لیے اسے ایک خوش آئند قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈزنی کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ کام مرحلہ وار کیا جائے گا تاکہ پارک میں آنے والے سیاحوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے اور اس دوران پارک کا تسلسل بھی برقرار رہے۔