LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی پنجاب میں روایتی گھروں کا خاتمہ اور گرمی کی شدت

News Image
جنوبی پنجاب کے دیہی علاقوں میں روایتی اور قدرتی طور پر ٹھنڈے گھروں کی جگہ سیمنٹ اور کنکریٹ کی تعمیرات نے لے لی ہے۔ اس تبدیلی کی وجہ سے خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور گرمی کی شدت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
جنوبی پنجاب کے دیہی علاقوں میں صدیوں پرانی روایتی طرزِ تعمیر تیزی سے ختم ہو رہی ہے، جس کی جگہ سیمنٹ، اینٹوں اور کنکریٹ کی جدید عمارتوں نے لے لی ہے۔ پرانے وقتوں میں یہاں کے مکین مٹی، گھاس اور قدرتی مواد سے ایسے گھر بناتے تھے جو گرمیوں میں قدرتی طور پر ٹھنڈے رہتے تھے اور اندر ہوا کا گزر باقاعدگی سے ہوتا تھا۔ ان روایتی گھروں اور 'سانس لینے والی' آرکیٹیکچر کے خاتمے نے اس خطے کے باسیوں کو گرمی کی شدید لہروں کے سامنے مزید غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نیا کنکریٹ کلچر سورج کی حرارت کو جذب کرتا ہے اور رات کے وقت بھی کمروں کو ٹھنڈا نہیں ہونے دیتا، جس سے ہیٹ سٹریس کے مسائل میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات اور معماروں کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب کا موسم پہلے ہی انتہائی گرم رہتا ہے، اور روایتی تعمیراتی طریقے اس سخت آب و ہوا کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے۔ مگر اب جدیدیت کی دوڑ اور طرزِ زندگی کی تبدیلی کے باعث لوگ پکے مکانات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان پکے مکانات میں ائر کنڈیشنگ اور بجلی کے پنکھوں کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے، جو نہ صرف غریب عوام کے لیے مالی بوجھ بن رہا ہے بلکہ بجلی کی کھپت میں اضافے کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں اور دیہی علاقوں میں ماحول دوست اور پائیدار تعمیرات کے فروغ کے لیے اقدامات کریں۔ روایتی تعمیراتی تکنیکوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھال کر نہ صرف توانائی کی بچت کی جا سکتی ہے بلکہ بڑھتی ہوئی گرمی کے منفی اثرات سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو آنے والے برسوں میں جنوبی پنجاب کے باسیوں کو شدید ترین موسمیاتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔