LIVE
Loading Breaking News...

گوادر بجلی بحران: ایران سے درآمدی بجلی کی سپلائی پر اثرات

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث گوادر کو ایران سے ملنے والی بجلی کی ترسیل شدید خطرات سے دوچار ہے۔ اس صورتحال سے مقامی صنعتوں اور رہائشی علاقوں میں بجلی کا بڑا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں بجلی کا ایک نیا بحران سر اٹھانے لگا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے پاکستان کو ایران سے درآمد ہونے والی بجلی کی فراہمی کو شدید خطرات میں ڈال دیا ہے۔ گوادر، جو کہ سی پیک (CPEC) کا مرکز ہے، اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ ایرانی بجلی پر منحصر رکھتا ہے۔ اگر یہ سپلائی متاثر ہوتی ہے تو پورے خطے کے ترقیاتی منصوبوں اور مقامی آبادی کے لیے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے باعث سرحدی علاقوں میں تجارتی اور توانائی کے معاملات پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ حکومتی ذرائع اس حوالے سے سخت تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ متبادل ذرائع نہ ہونے کی صورت میں گوادر کا پورا انفراسٹرکچر اندھیروں میں ڈوب سکتا ہے۔ مقامی صنعت کاروں اور تاجروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو گوادر میں جاری تجارتی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے جس سے ملکی معیشت کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ دوسری جانب حکومتی سطح پر اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ وزارت توانائی اس مسئلے کے حل کے لیے سفارتی سطح پر رابطے کر رہی ہے تاکہ ایران سے بجلی کی درآمد کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔ تاہم، خطے کی موجودہ سیاسی صورتحال کسی بھی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گوادر کو بجلی کے متبادل ذرائع جیسے سولر اور مقامی پاور پلانٹس سے منسلک کرے تاکہ شہر کو کسی بھی بیرونی دباؤ یا سیاسی بحران سے محفوظ رکھا جا سکے۔ مستقبل کے تناظر میں دیکھا جائے تو گوادر کے رہائشیوں کے لیے یہ بجلی کا مسئلہ صرف ایک وقتی بحران نہیں بلکہ ایک طویل مدتی چیلنج بن چکا ہے۔ جب تک پاکستان اپنی توانائی کی خود مختاری حاصل نہیں کر لیتا، تب تک سرحد پار سے درآمد شدہ بجلی پر انحصار کسی بھی وقت قومی معیشت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ عوام حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے کام کرے گی تاکہ سی پیک کے اس اہم ترین شہر کو کسی بڑے تعطل سے بچایا جا سکے۔