Education
وفاقی اردو یونیورسٹی کے معاملات: انجمن ترقی اردو کا حکومت سے مطالبہ
وفاقی اردو یونیورسٹی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق کے مزار پر حاضری دی اور پھول چڑھائے۔ اس موقع پر انجمن ترقی اردو نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کا کنٹرول انجمن کے حوالے کیا جائے تاکہ اس کے قیام کے بنیادی مقصد کو برقرار رکھا جا سکے۔
وفاقی اردو یونیورسٹی کے ایک وفد نے حال ہی میں کراچی میں بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق کے مزار پر حاضری دی۔ اس موقع پر وفد نے بابائے اردو کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے مزار پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔ اس تقریب کا مقصد بانیانِ اردو کی خدمات کو یاد رکھنا اور ان کے مشن کے ساتھ تجدیدِ عہد کرنا تھا۔ تاہم، اس دورے کے ساتھ ہی یونیورسٹی کے انتظامی معاملات پر ایک نئی بحث کا آغاز بھی ہو گیا ہے، جس میں انجمن ترقی اردو پاکستان کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کا کنٹرول باضابطہ طور پر انجمن کے حوالے کیا جائے۔
انجمن ترقی اردو کے عہدیداران کا موقف ہے کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کا قیام ایک خاص مقصد کے تحت عمل میں لایا گیا تھا، جس کا محور اردو زبان کا فروغ اور اسے ذریعہ تعلیم بنانا تھا۔ انہوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی میں تعلیمی نظام کے انگریزی کی طرف جھکاؤ نے اس کے بنیادی مقصد کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی جس مقصد کے لیے قائم کی گئی تھی، موجودہ حالات میں وہ پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ انجمن کے مطابق، اگر یونیورسٹی کا انتظام ان کے سپرد کر دیا جائے تو وہ اس کے اصل ویژن کو دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں اور اردو زبان کے تعلیمی معیار کو بلند کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب تعلیمی ماہرین اس مطالبے کو اہم قرار دے رہے ہیں، کیونکہ وفاقی اردو یونیورسٹی پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اردو زبان کے فروغ کا سب سے بڑا ادارہ سمجھی جاتی ہے۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ اور حکومت کو اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ادارے کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ انجمن ترقی اردو کا یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب یونیورسٹی کو مختلف انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ وفاقی حکومت اس پر کیا ردعمل دیتی ہے اور کیا یہ ادارہ اپنے قیام کے بنیادی مقاصد کی جانب دوبارہ لوٹ پائے گا یا نہیں۔