LIVE
Loading Breaking News...

گرین پارٹی رہنما پولانস্কি تنازعہ اور معافی مانگنے سے انکار

News Image
گرین پارٹی کے رہنما نے ایک شخص کی تصویر دوبارہ پوسٹ کی تھی جس نے گلا کاٹنے والے آلے کی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی۔ انہوں نے اس اقدام کو محض ایک غلطی تسلیم کیا لیکن معافی مانگنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
برطانیہ کی سیاست میں اس وقت ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا جب گرین پارٹی کے ایک سرکردہ رہنما پولانস্কি نے سوشل میڈیا پر ایک ایسی تصویر دوبارہ شیئر کی جس میں ایک شخص کو گلا کاٹنے والے روایتی آلے یعنی گیوٹین (guillotine) کی ٹی شرٹ پہنے ہوئے دکھایا گیا تھا اور اس پر نائجل کا نام درج تھا۔ اس انتہائی متنازعہ سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور اس عمل کو تشدد کی حوصلہ افزائی کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔ تنقید میں شدت آنے کے بعد جب پولانস্কি سے اس عمل کی وضاحت طلب کی گئی تو انہوں نے اس پوری صورتحال پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ پوسٹ کرنا ان کی طرف سے ایک غلطی تھی، تاہم انہوں نے اس حرکت پر باضابطہ طور پر معافی مانگنے سے قطعی طور پر انکار کر دیا۔ ان کے اس رویے نے مخالف سیاسی جماعتوں کو تنقید کا ایک اور موقع فراہم کر دیا ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ معافی نہ مانگنے کی وجہ سے یہ معاملہ مزید طول پکڑ سکتا ہے۔ سیاسی حریفوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی علامات کو فروغ دینا اور پھر اس پر شرمندہ ہونے یا معافی مانگنے سے گریز کرنا ذمہ دارانہ سیاسی رویے کے بالکل منافی ہے۔ عوام اور مختلف تنظیموں کی طرف سے بھی اس واقعے پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے معاشرتی اور سیاسی کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے۔ گرین پارٹی کی قیادت اور پولانস্কি پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنا موقف واضح کریں اور اس غیر ذمہ دارانہ حرکت کی اصل وجوہات بتائیں۔ آنے والے دنوں میں اس تنازعے کے مزید پھیلنے کے امکانات ہیں کیونکہ متاثرہ فریق اور دیگر سیاسی رہنما اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق، سوشل میڈیا کا یہ استعمال سیاست دانوں کے لیے ایک بڑا سبق ہے کہ انہیں آن لائن مواد شیئر کرتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے تاکہ اس قسم کے ناخوشگوار تنازعات سے بچا جا سکے۔