World
برطانیہ: چائلڈ مینٹیننس سروس کی ناکامی سے والدین پریشان
برطانیہ کے چائلڈ مینٹیننس سروس کے طریقہ کار پر والدین کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ ماؤں اور باپ دونوں کا کہنا ہے کہ حکومتی ادارے کی ناقص کارکردگی نے ان کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔
برطانیہ میں بچوں کی دیکھ بھال کے اخراجات وصول کرنے والی سرکاری تنظیم 'چائلڈ مینٹیننس سروس' (CMS) اس وقت شدید تنقید کی زد میں ہے، جہاں والدین کا ایک بڑا طبقہ اس نظام کے تحت پیش آنے والی مشکلات کا رونا رو رہا ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، بہت سی مائیں طویل قانونی لڑائیوں اور ناکام کوششوں کے بعد تھک چکی ہیں، جن کا کہنا ہے کہ ان کے سابقہ شریک حیات بچوں کے اخراجات ادا کرنے سے کتراتے ہیں اور سروس اس معاملے میں موثر کردار ادا کرنے میں ناکام ہے۔ دوسری طرف، باپ کی جانب سے بھی ایسے ہی سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جن کا دعویٰ ہے کہ انہیں غلط طریقے سے ہزاروں پاؤنڈز کے واجبات کے نوٹس بھیجے جا رہے ہیں۔
کٹی نامی ایک خاتون نے اپنی کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ انہیں اپنے سابق شوہر سے بچوں کے حقوق اور اخراجات وصول کرنے کے لیے کئی سال تک جدوجہد کرنا پڑی، لیکن سرکاری ادارے نے کوئی ٹھوس مدد فراہم نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے نظام کا کیا فائدہ جو بچوں کے مستقبل کے بجائے بیوروکریسی کے پیچیدہ جال میں والدین کو الجھا کر رکھ دیتا ہے۔ ان جیسے بہت سے والدین کا ماننا ہے کہ سسٹم میں شفافیت کا فقدان ہے اور اکثر درست فیصلے بروقت نہیں کیے جاتے، جس کی قیمت بچوں کو چکانا پڑتی ہے۔
دوسری جانب بہت سے والد بھی اس نظام کے متاثرین میں شامل ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ان پر عائد کردہ جرمانوں اور اخراجات کی رقوم اکثر غیر حقیقی اور غلط اعداد و شمار پر مبنی ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک وہ حکام کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے دستاویزات پیش کرتے ہیں، تب تک ان کی مالی ساکھ اور ذہنی سکون مکمل طور پر برباد ہو چکا ہوتا ہے۔ مردوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں کا کہنا ہے کہ چائلڈ مینٹیننس سروس کا موجودہ ڈھانچہ دونوں فریقین کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے مزید تنازعات کو جنم دے رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، حکومتی سطح پر اس ادارے کی کارکردگی کا ازسرنو جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر چائلڈ مینٹیننس سروس اپنے کام کے طریقہ کار کو بہتر نہیں بناتی تو آنے والے وقتوں میں اس کے خلاف احتجاج اور شکایات میں مزید اضافہ ہوگا۔ والدین کی جانب سے اس مطالبے نے زور پکڑ لیا ہے کہ حکومت اس معاملے میں مداخلت کرے تاکہ بچوں کے حقوق کا تحفظ ہو سکے اور والدین کو بلاجواز قانونی اور مالی اذیت سے نجات مل سکے۔