Pakistan
راولپنڈی میں موسلا دھار بارشوں سے نالہ لئی بپھر گیا
راولپنڈی میں شدید مون سون بارشوں کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی ہے۔ مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
راولپنڈی اور جڑواں شہروں میں گزشتہ کچھ گھنٹوں سے جاری موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں شہر کے سب سے اہم آبی گزرگاہ نالہ لئی میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد انتظامیہ نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ شدید بارشوں کے باعث نالہ لئی میں طغیانی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے جس سے نشیبی علاقوں کے مکینوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی تھی کہ مون سون کی موجودہ لہر کے دوران مزید بارشیں ہو سکتی ہیں، جس کے بعد ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ الرٹ کے مطابق، نالہ لئی کے قریبی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہیں۔ ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی اداروں کو بھی متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی جا سکے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ گھروں کی چھتوں اور نچلے حصوں کو محفوظ بنائیں اور انتظامیہ کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں۔ پانی کی سطح مسلسل مانیٹر کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں ریکارڈ کی گئی بارشوں نے نشیبی بستیوں میں پانی جمع ہونے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ برساتی پانی کے نکاس کے لیے متعلقہ عملہ فیلڈ میں موجود ہے اور بھاری مشینری کے ذریعے راستوں کو صاف کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ضلعی حکومت نے کنٹرول روم بھی قائم کر دیا ہے جہاں سے صورتحال کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کی جا رہی ہے۔ عوام سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری اعلامیوں پر توجہ دیں تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا خوف و ہراس سے بچا جا سکے۔
آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کے امکانات کے پیش نظر راولپنڈی کے تمام تر امدادی اداروں کو الرٹ رہنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور بچوں کو پانی کے بہاؤ کے مقامات سے دور رکھیں۔ حکومت کی جانب سے ایمرجنسی پلان کے تحت تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔