LIVE
Loading Breaking News...

امریکی صدر ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقوں میں تخفیف کا فیصلہ

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی کوریا کے ساتھ ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں کے دائرہ کار کو محدود کیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ مشقیں شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا جس نے خطے میں جاری کشیدگی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی کوریا کے ساتھ ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں میں کمی کرنے کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ مشقیں شروع ہونے میں صرف چند گھنٹے باقی تھے۔ صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کا اعلان سوشل میڈیا اور پریس بریفنگز کے ذریعے کیا، جس کا مقصد جزیرہ نما کوریا میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور سفارتی عمل کو مزید تقویت دینا ہے۔ اگرچہ امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان دفاعی تعاون ایک دیرینہ اتحاد کا حصہ ہے، تاہم مشقوں میں یہ اچانک تخفیف مبصرین کے لیے حیران کن ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ شمالی کوریا طویل عرصے سے ان مشقوں کی مخالفت کرتا آیا ہے اور انہیں اپنے خلاف جارحیت کی تیاری قرار دیتا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے مشقوں کے حجم کو محدود کرنے کا مقصد پینگانگ کے تحفظات کو دور کرنا ہے تاکہ خطے میں جاری جوہری مذاکرات میں پیش رفت کی راہ ہموار کی جا سکے۔ اس فیصلے کے بعد اب دنیا بھر کی نظریں شمالی کوریا کے ردعمل پر مرکوز ہیں۔ دوسری جانب پینٹاگون اور جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے اپنے مشترکہ بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ موجودہ عالمی صورتحال اور امن کے قیام کے پیش نظر مشقوں کے طریقہ کار میں تبدیلی لائی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ مشقیں اب روایتی انداز کے برعکس زیادہ محدود اور دفاعی نوعیت کی ہوں گی، جس سے نہ صرف وسائل کی بچت ہوگی بلکہ خطے میں طاقت کے عدم توازن کو روکنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس فیصلے پر جہاں کچھ حلقوں نے اسے ایک دانشمندانہ قدم قرار دیا ہے، وہیں کچھ سیاسی تجزیہ کار اسے امریکہ کی جانب سے دفاعی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ اقدام خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے واقعی سودمند ثابت ہوتا ہے یا اس سے دیگر علاقائی طاقتوں کے مابین نئی کشیدگی جنم لیتی ہے۔ امریکی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر جنوبی کوریا کی حکومت کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا گیا ہے، جس کا واحد مقصد جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک اور پرامن خطہ بنانا ہے۔ اس پیش رفت نے بین الاقوامی سطح پر سفارتی حلقوں میں بحث شروع کر دی ہے کہ آیا یہ امریکی خارجہ پالیسی میں ایک طویل مدتی حکمت عملی کی تبدیلی کی شروعات ہے۔