LIVE
Loading Breaking News...

جھارکھنڈ بھرتی اسکینڈل: طلبہ کا احتجاج اور وزیر اعلیٰ کے گھر کا گھیراؤ

News Image
جھارکھنڈ میں سرکاری بھرتی امتحانات میں مبینہ بے قاعدگیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج مسلسل 23 ویں روز بھی جاری ہے جس میں شدت آ رہی ہے۔ مظاہرین نے اب وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین اور کانگریس لیڈر راہول گاندھی کے پتلے نذر آتش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں سرکاری بھرتی امتحانات میں ہونے والی مبینہ بے قاعدگیوں اور دھاندلی کے خلاف طلبہ کی تحریک مسلسل 23 ویں روز بھی جاری ہے۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کا مطالبہ ہے کہ امتحانات کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ تحریک کی شدت میں اس وقت اضافہ ہوا جب مظاہرین نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین اور کانگریس کے سینئر رہنما راہول گاندھی کے پتلے نذر آتش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ احتجاجی مظاہرہ اب ایک بڑے سیاسی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جہاں طلبہ تنظیمیں حکومت پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں۔ طلبہ کا دعویٰ ہے کہ سرکاری ملازمتوں کے حصول کے لیے ہونے والے امتحانات میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی گئی ہے جس سے قابل امیدواروں کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے۔ احتجاج کے اگلے مرحلے کے طور پر طلبہ نے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور وزیر اعلیٰ مستعفی نہیں ہوتے، وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ طلبہ نے ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے کی مرتکب ہو رہی ہے اور بھرتی کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے۔ مقامی پولیس اور انتظامیہ نے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے ارد گرد سیکیورٹی کے سخت انتظامات کر دیے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ تاہم طلبہ کا موقف ہے کہ انہیں پرامن احتجاج کا پورا حق حاصل ہے اور وہ اپنی بات منوانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس احتجاج کو حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ کانگریس اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی اتحادی حکومت کے لیے یہ صورتحال مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے کیونکہ اپوزیشن جماعتیں بھی اس معاملے پر طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ مستقبل قریب میں مزید ہنگامہ آرائی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ طلبہ کی جانب سے ریاست بھر میں احتجاجی دھرنوں اور مظاہروں کا سلسلہ وسیع کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے بات چیت کی کوششیں تاحال بے نتیجہ ثابت ہوئی ہیں کیونکہ طلبہ اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ یہ معاملہ اب ریاستی سیاست کا محور بن چکا ہے اور عوام کی نظریں حکومت کے اگلے اقدام پر لگی ہوئی ہیں کہ آیا وہ طلبہ کے مطالبات کو تسلیم کرتی ہے یا احتجاج کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کرتی ہے۔