Business
پاکستان اور بھارت سمیت ریفائنریز کے لیے نئے ایل پی جی اہداف کا اعلان
حکومت نے پہلی بار سرکاری اور نجی شعبے کی ریفائنریز اور اپ اسٹریم کمپنیوں کے لیے ایل پی جی کی پیداوار کے اہداف کا تعین کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں مقامی سطح پر کھانا پکانے والی گیس کی دستیابی کو یقینی بنانا اور درآمدی انحصار کم کرنا ہے۔
حکومت نے ملکی سطح پر کھانا پکانے والی گیس یعنی ایل پی جی کی فراہمی کو بہتر بنانے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے پہلی بار سرکاری اور نجی شعبے کی ریفائنریز اور اپ اسٹریم کمپنیوں کے لیے ایل پی جی کی پیداوار کے زیادہ سے زیادہ اہداف مقرر کر دیے ہیں۔ اس نئی پالیسی کے تحت ہر کمپنی کو ایک مخصوص کوٹہ دیا گیا ہے جس پر عمل درآمد لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک میں گیس کی قلت کو دور کرنا اور توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کی طرف پیش قدمی کرنا ہے۔
اس حکومتی فیصلے کے تحت نجی شعبے کی بڑی کمپنی 'ریلائنس انڈسٹریز' کو ایل پی جی کی پیداوار کا سب سے بڑا کوٹہ الاٹ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ریفائنریز کی پیداواری صلاحیت اور ان کی موجودہ استعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ اہداف نہ صرف مارکیٹ میں گیس کی متوازن فراہمی کو یقینی بنائیں گے بلکہ قیمتوں میں استحکام لانے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔ کمپنیاں اب اپنے مقرر کردہ اہداف کے مطابق اپنی ریفائننگ سرگرمیوں کو منظم کرنے کی پابند ہوں گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایل پی جی کے لیے یہ مربوط نظام توانائی کے شعبے میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ طویل عرصے سے ملک میں ایل پی جی کی مانگ اور رسد میں فرق پایا جاتا تھا، جسے پورا کرنے کے لیے اکثر درآمدات کا سہارا لیا جاتا تھا۔ اب چونکہ حکومت نے خود ریفائنریز کو اہداف دے دیے ہیں، اس سے مقامی پیداوار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ یہ حکمت عملی نہ صرف کمپنیوں کو اپنی صلاحیتوں کو بہتر استعمال کرنے کی ترغیب دے گی بلکہ صارفین کو بھی سستی اور بلا تعطل گیس کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ ان اہداف پر عمل درآمد کی سخت نگرانی کی جائے گی تاکہ مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا نہ ہو۔ تمام متعلقہ کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی پیداوار کو مقررہ اہداف کے مطابق یقینی بنائیں اور اپنی رپورٹیں باقاعدگی سے متعلقہ حکام کو جمع کرائیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس نئے نظام کے نفاذ سے ملکی توانائی کے شعبے میں شفافیت آئے گی اور مستقبل قریب میں ایل پی جی کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنے میں کافی مدد ملے گی۔