Business
بھارت میں ایل پی جی کی مقامی پیداوار میں اضافے کا حکومتی اقدام
بھارتی حکومت نے درآمدی رکاوٹوں سے نمٹنے اور ملکی سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے ریفائنریز کے لیے ایل پی جی کی پیداواری اہداف مقرر کر دیے ہیں۔ اس حکمت عملی کے تحت ریلائنس انڈسٹریز کو ایل پی جی کی سب سے زیادہ پیداوار کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
بھارتی حکومت نے توانائی کے شعبے میں درپیش درآمدی مشکلات اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی سپلائی چین کی رکاوٹوں کے پیش نظر ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے ریفائنریز اور اپ اسٹریم کمپنیوں کے لیے ایل پی جی (LPG) کی پیداوار کے زیادہ سے زیادہ اہداف مقرر کر دیے ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک کے اندر ایل پی جی کا ایک ایسا ذخیرہ اور سپلائی بفر تیار کرنا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ملکی ضروریات کو مقامی پیداوار سے پورا کیا جا سکے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق اب تمام ریفائنریز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے پیداواری اہداف کو ہر صورت حاصل کریں۔ اس نئے حکومتی منصوبے کے تحت ریلائنس انڈسٹریز کو سب سے بڑا ہدف دیا گیا ہے، جو ملک کی سب سے بڑی ریفائنری کے طور پر ایل پی جی کی پیداوار میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کم کرنے اور مقامی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق حکومت ہر چھ ماہ بعد ان پیداواری شیڈولز کا تفصیلی جائزہ لے گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کمپنیاں مقررہ اہداف کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ ریفائنریز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نہ صرف پیداوار میں اضافہ کریں بلکہ مارکیٹ میں ایل پی جی کی مسلسل دستیابی کو برقرار رکھنے کے لیے مناسب ذخیرہ اندوزی کے انتظامات بھی یقینی بنائیں۔ توانائی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام بھارت کی توانائی سیکیورٹی کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔ ملک میں ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی کھپت کو دیکھتے ہوئے، مقامی سطح پر پیداوار کو فروغ دینا نہ صرف درآمدی بل میں کمی لائے گا بلکہ مقامی انڈسٹری کو بھی مستحکم کرے گا۔ ریلائنس انڈسٹریز کو دیا گیا بڑا ہدف کمپنی کی پیداواری استعداد اور مارکیٹ میں اس کے مضبوط اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں حکومتی نگرانی کا یہ نظام یہ فیصلہ کرے گا کہ آیا ریفائنریز ان اہداف کو حاصل کرنے میں کتنی کامیاب رہتی ہیں۔